نشیب از عبداللہ حسین 173

نشیب از عبداللہ حسین

نشیب از عبداللہ حسین

اردو ادب میں عبداللہ حسین کا نام کسی تعارف کا مختاج نہیں۔ اس کا ناول “اُداس نسلیں” برصغیر پاک و ہند کے طول و عرض میں قارئین سے خراجِ تحسین حاصل کرچکا ہے۔ لیکن عبداللہ حسین نے صرف ناول ہی کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے، بلکہ وہ ایک باکمال افسانہ نگار بھی ہے۔
زیر نظر کتاب “نشیب” اُن کے دو ناولٹوں اور پانچ افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔ اس مجموعے کی خصوصیت یہ کہ اس میں شامل چار افسانے تو مطبوعہ ہیں لیکن دو ناولٹ اور ایک افسانہ ایسے ہیں جو اس سے پہلے کہیں بھی شائع نہیں ہوئے۔ نشیب نامی ناولٹ کو اس مجموعے کا دل سمجھنا چاہیئے ۔۔
یہ دو ناولٹ اور پانچ افسانے گویا ایک چوڑے زاویے والا عدسہ ہیں جس میں زندگی غیرمعمولی گہرائی اور وسعت سے ہم کنار ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے۔ اس کہانیوں کے کردار محبت اور ہمدمی کے بھوکے ہیں ۔ انہیں کسی ایسی آسودگی کی طلب بے کل رکھتی ہے جو آسودہ حالی کی دنیاوی تصور سے ماوراء کوئی چیز ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح اپنی تنہائیوں اور محرومیوں کے گرداب سے نکل کر ساحل سے جا لگیں۔ ان سب نے کبھی نہ کبھی ایک بہتر اور مختلف زندگی کی جھلک دیکھی ہے اور اپنے دل میں کہیں نہ کہیں یہ محسوس کرتے ہیں کہ دوراہے پر پہنچ کر وہ غلط سمت میں مڑ گئے تھے اور غلط سمت ہی میں چلتے جارہے ہیں ۔ ناولٹ نشیب ایک ایسے ہی المیے کی تفسیر ہے ۔ اس میں دو کہانیاں ایک دوسرے کے اندر گھومتی ہیں اور باہمی معنویت کو اُجالتی ہیں۔ نشیب اور اس مجموعے کے باقی افسانے اور ناولٹ اردو فکشن میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ عبداللہ حسین کی کانٹے کی تول جیسی نثر موضوعات کے ساتھ پورا پورا انصاف کرتی ہے۔ انہوں نے اس کتاب میں زندگی کو اپنی تمام تر شیرینی اور سفاکی کے ساتھ سمودیا ہے۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں