جو چلے تو جاں‌سے گزر گئے ناول از ماہا ملک 230

جو چلے تو جاں‌سے گزر گئے ناول از ماہا ملک

اردو ناول “جو چلے تو جاں سے گزرگئے” تحریر ماہا ملک

جو چلے تو جان سے گزر گئے مشہور خاتون مصنفہ ماہا ملک کا ایک رومانوی ناول ہے۔ کہانی انسانی جذبات جیسے محبت، نفرت، قربانی، غلبہ اور بالادستی پر مرکوز ہے۔ وفاداری اور خلوص پر مبنی ایک سہ رخی محبت کی کہانی۔

ماہا ملک خواتین قارئین میں بہت مقبول ہیں۔ وہ ایک عرصے سے مختلف اردو ڈائجسٹوں میں لکھ رہی ہیں۔ ان کے کئی ناول اب تک کتابی شکل میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں “چاند سی دلہن، ایک دیا جلائی رکھنا، اور ریگزار تمنا شامل ہیں۔

زیر نظر ناول ہمارے معاشرے کی کہانی بیان کرتا ہے۔ اس کہانی کے کردار کوئی غیرحقیقی یا خیالی نہیں بلکہ زندہ کردار ہیں جو ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ وہ زندگی کے ہر موڑ پر ہم سے ملتے ہیں۔ یہ کردار محبت کے رشتوں سے بھی واقف ہیں اور دشمنی اور نفرت کو سنبھالنا بھی جانتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ کیسے جینا ہے اور کیسے مرنا ہے۔

انسانی فطرت کے بنیادی عناصر نیکی اور بدی ہیں۔ ہر انسان کا خمیر ان دو عناصر کا مرکب ہے۔ آدمی سے انسان تک کا سفر مشکل ہے اور صبر کی ضرورت ہے۔ لیکن “انسان” دراصل وہ ہے جس کی “برائی” اس کی “نیکی” کو شکست نہیں دے سکتی، جس کے اندر “نیکی” کا شعلہ جلتا ہے۔ یہی احساس اس ناول کی بنیاد ہے۔

ناول “جو چلے تو جان سے گزر گئے” اب پاکستان ورچوئل لائبریری پر ہمارے قارئین کے مطالعہ کے لیے پی ڈی ایف میں دستاویز میں دستیاب ہے۔ آن لائن پڑھنے یا مکمل ناول کو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے درج ذیل لنکس کو دیکھیں اور اپنے کمپیوٹر یا اسمارٹ فون پر آف لائن پڑھنے سے لطف اندوز ہوں۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں