بیلی راجپوتاں کی ملکہ از نمرہ احمد 558

بیلی راجپوتاں کی ملکہ از نمرہ احمد

اردو ناول “بیلی راجپوتاں کی ملکہ” تحریر نمرہ احمد

بیلی راجپوتاں کی ملکہ تاریخ کے دریچوں سے ایک بہترین سماجی اور رومانوی کہانی ہے۔ بیلی راجپوتاں کی ملکہ نمرہ احمد کی دوسری کتاب ہے۔ اس کتاب میں دو کہانیاں شامل ہیں ” بیلی راجپوتاں کی ملکہ” اور” مہرالنساء”۔ ان دونوں کہانیوں میں ایک مماثلت ہے، اور وہی مماثلت ہم میں سے تقریناً ہر شخص کی سب سے بڑی خامی ہے۔ ہم انسانوں کو بلیک اینڈ وائٹ دیکھنا چاہتے ہیں، اور کہانی کے کرداروں کی ساتھ بھی ہمارا یہی رویہ ہوتا ہے۔ مرکزکی کردار، جنہیں ہیرو یا ہیروئن کہا جاتا ہے، کی کسی خامی یا کمزوری کو ہمارے ہاں پسند نہیں کیا جاتا۔ جبکہ حقیقی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا.
ہر انسان میں جہاں کوئی اچھی بات ہوتی ہے تو ساتھ کچھ بُری باتیں بھی اس کی شخصیت کا حصہ ہوتی ہیں، مگر ہمیں لوگ تب تک اچھے لگتے ہیں جب تک ان کی اچھی سائیڈ ہماری سامنے رہتی ہے، اور جیسے ہی ان کی کوئی بُری بات کھلے، ہم فوراً ان کو جج کرنے لگتے ہیں، اور پھر اپنی زندگیوں میں کتنے ہی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو ہم اسی Judgemental سوچ کی بنا پہ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہم خود نہیں بدلتے، دوسروں کو بدلنا چاہتے ہیں۔ مہرالنساء اور مایا کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا تھا۔
زیر نظر ناول میں مصنفہ نے ایک راجپوت خاتون کی کہانی بیان کی ہے جس نے ایک حادثے میں اپنے شوہر کو کھو دیا۔ اسے سسرال والوں کے ساتھ کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑا لیکن اپنے شوہر کا گھر چھوڑنے پر تیار نہیں ہوئی۔
کہانی متحدہ ہندوستان میں دیہی ثقافت کو پیش کرتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو یہ تاریخی داستان ضرور پسند آئے گی۔ کہانی شروع ہوتی ہے 80 سال پرانے دور میں جہاں “بیلی راجپوتاں” نامی ریاست کے جنگلوں میں رتھ پہ سوار “ملکہ مایا راج ” کو راستے میں لٹیرے روک لیتے ہیں مگر لٹیروں کا سردار ملکہ کو جانے کا کہہ دیتا ہے اور ملکہ سمجھ جاتی ہے کہ یہ “بدر غاذان” نامی مشہور ڈاکو تھا جو صرف فرنگیوں کو لوٹتا تھا۔ مایا جب اپنے محل پہنچتی ہے تو اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ محل میں پراسرار طور پر آگ لگنے کی وجہ سے انکے شوہر “شیکھرراج” کا انتقال ہو گیا ہے۔ مایا کو شک ہے کہ اس کے شوہر کو قتل کیا گیا ہے ۔ وہ ڈاکو بدر غاذان کے ساتھ ملکر واردات کی تحقیقات کرتے ہیں جس کے دوران دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہو جاتی ہے۔ راجپوت خاتون کو ایک ڈاکو سے محبت ہو گئی ، جبکہ بدر کی منگنی “زہرا” نامی اپنی کزن سے ہو چکی ہے۔
گاؤں میں یہ بات مشہور ہے کہ گاؤں کے پرانے قبرستان میں ایک آسیب رہتا ہے جو قبرستان کے رستے میں آنے والوں کو مار دیتا ہے۔ کہانی کافی دلچسپ ہے ، مایا اور بدر کہانی کے مرکزی کردار ہیں ۔ کہانی کا موضوع , پلاٹ, کردار نگاری اور سسپنس بہت جاندار ہے. لگتا ہے جیسے آپ کوئی ہالی وڈ کی فلم دیکھ رہے ہوں۔ مایا کا بدر کو بے وقوف بنا کر بھاگ جانے والا سین میرا پسندیدہ سین تھا.
نمرہ احمد ایک مشہور خاتون مصنفہ اور ناول نگار ہیں۔ اس نے کچھ سپر ہٹ کہانیاں لکھے ہیں جیسے نمل ، حالم اور مصحف۔ نمرہ احمد ان چند رائٹرز میں سے ایک ہیں جن کی کہانیوں کا ٹاپک عام عنوان سے زرا ہٹ کر ہوتے ہیں اور کہانی ایسے الجھی ہوئ ہوتی ہے کہ آپ کہانی کے ختم ہونے کے بعد ہی خود کو الجھن سے نکالا ہوا محسوس کرینگے.
ایک بات جو میں نے نوٹ کی ہے کہ نمرہ احمد کی تقریباً تمام کہانیوں کا اختتام ایسا متاثرکن ہوتا ہے کہ قاری کو ہمیشہ یہ گمان رہتا ہے، کہ اس کا اگلہ حصہ اگر وہ لکھنا چاہیں تو آرام سے لکھ کر پھر ایک نئی کہانی بن سکتی ہیں۔ مگر میں نے کہیں نمرہ احمد کا تبصرہ پڑھا تھا کہ وہ ایسا اختتام اس لئے لکھتی ہے تاکہ قاری سمجھے کہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوتی بلکہ چلتی رہتی ہیں جس طرح ہماری زندگی کہیں آکر رک نہیں جاتی بلکہ ہر دکھ سکھ کو ساتھ لیکر آگے بڑھتی رہتی ہے۔
کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ لوگوں کو معاف کرنا سیکھیں، ان کے عیوب پہ ان کو عار نہ دلائیں، ان کی بُری باتوں کے پیچھے نہ لگ جائیں۔ ان کو جج مت کریں۔ ہم انسانوں سے محبت صرف تب ہی کرسکتے ہیں جب ان کو جج کرنا چھوڑدیں۔ سو اللہ کے بندوں کو معاف کردیا کریں، بندوں کا رب آپ کو بھی اس بڑے دن معاف کردے گا۔
کیا واقعی واقعی مایا کے شوہر شیکھرراج کا قتل ہوا تھا؟ آخر پرانے قبرستان کے آسیب کا راز کیا تھا اور زہرا کیا کرےگی جب اسے بدر اور مایا کی محبت کا پتہ چلےگا؟ جاننے کے لئے پڑھیں “بیلی راجپتاں کی ملکہ”۔ اگر آپ نے یہ کتاب پڑھی ہے تو اپنی رائے ضرور دیں.

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں