آزادی کے بعد ناول از ہاورڈ فاسٹ 156

آزادی کے بعد ناول از ہاورڈ فاسٹ

آزادی کے بعد تاریخی ناول از ہاورڈ فاسٹ

یہ ناول امریکی حبشیوں کی جنگِ آزادی کی ایک اسی تصویر ہے جس کے خدوخال دلکش بھی ہیں اور ہیبت ناک بھی۔ اس میں انسانوں کی ان آرزوؤں اور تمناؤں کی تصویر کشی کی گئی ہے جو ہاتھ میں بندوق لیکر اور اپنا خون بہاکر اپنی مقصد کی تکمیل کے لئے کوشاں ہوئی ہیں۔
ہاورڈ فاسٹ نے اپنے جادو بھرے قلم سے امریکی رجعت پرستی کے چہرے کو اس طرح بے نقاب کیا ہے کہ وہ اپنی بھیانک صورت چھپا نہیں سکتا اور ترقی اور انسانیت کے حُسن کو وہ تابناکی بخشی ہے جو کھبی ماند نہیں پڑسکتی۔ آج جب ساری انسانیت اپنی آزادی کی آخری منزل کے قریب پہنچ گئی ہے اس ناول کا مطالعہ بہت ضروری اور حوصلہ افزا ہے۔
“آزادی کے بعد” ہاورڈفاسٹ کا پہلا ناول ہے جو اردو زبان میں شائع ہوا ہے۔ یوں تو برصغیر پاک و ہند میں ہزاروں انگریزی جاننے والے لوگ ہاورڈفاسٹ کو ایک عالمگیر شہرت رکھنے والے ادیب اور ناول نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ ہاورڈفاسٹ “Freedom Road” “Citizen Tom Paine” اور “Clarkton” جیسی شہرہ آفاق کتابوں کا مصنف ہے، اور اُس کی کتابیں دنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہو کے لاکھوں کی تعداد میں شائع ہوچکی ہیں۔ لیکن اردو میں ہاورڈفاسٹ کا نام نیا ہے۔ اس لئے ان کا تعارف ضرورت ہوتی ہے۔
ہاورڈفاسٹ ایک مشہور امریکی ادیب ہے ۔ وہ ان چند بڑے بڑے امریکیوں میں سے تھے جنہوں نے اپنے ملک کو بہت قریب سے دیکھا ہے، چھوا ہے، چکھا ہے اور اس سے پیار کیا ہے۔ وہ بہت سے ڈالروں کو امریکہ کی دولت نہیں سمجھتے، ایٹم بم کو امریکہ کی قوت نہیں سمجھتے، براڈوے اور ہالی ووڈ کی جگمگاتی ہوئی غریانی کو امریکہ کا اخلاق نہیں سمجھتے۔ وہ سمجھتے کہ اس دولت، اس اخلاق اور طاقت کا منبع عوام ہیں اور عوام نیویارک کے چند گنے چُنے اسکائی اسکریپر (فلک بوس مکان) میں نہیں رہتے۔بلکہ وہ تو امریکہ کی وادیوں میں کروڑوں چھوٹے چھوٹے یک منزلہ گھروں میں رہتے ہیں اور لکڑی کے ناتراشیدہ کندوں کے بنائے ہوئے کیمپوں میں رہتے ہیں اور دوسرے انسانوں کی طرح شب و روز محنت کرتے ہیں۔ اپنے ہمسایوں سے محبت کرتے ہیں اور کرسمس کے دن بھیس بدل کر اپنے بچوں کے لئے تحفے لاتے ہیں۔
ہاورڈ اپنے ناولوں میں ایسے ہی شاندار ، خوبصورت اور بہتر امریکیوں کا ذکر کرتا ہے۔ جو محبت کرتے ہیں اور ظلم کے خلاف لڑتے ہیں۔ کبھی جیت جاتے ہیں اور کبھی ہار جاتے ہیں۔ لیکن ہارنے پر بھی اپنی لڑائی جاری رکھتے ہیں۔ ہاورڈفاسٹ اس سنہرے ملمع کا ادیب نہیں ہے جو امریکی زندگی کے اوپر چڑھا کر ہمارے سامنے لایا جاتا ہے۔ وہ اس ملمع کو کھرچ کر اصلی امریکی زندگی ہمارے لئے اس طرح پیش کرتا ہے کہ امریکی کردار ہمیں ہندوستان اور پاکستان کے کردار ہی معلوم ہوتے ہیں۔
“آزادی کے بعد” میں آپ کو غریب امریکی عوام کی ایک ایسی ہی خوبصورت تصویر ملے گی ۔ ان عوام میں گورے بھی ہیں اور کالے بھی ، پڑھے لکھے بھی ہیں اور جاہل بھی۔ اس میں ایسے لوگ بھی ہیں جو سرمایہ پرستوں اور جاگیرداروں کے بہکانے میں آجاتے ہیں اور ایسے لوگ بھی جو مرتے دم تک ایک خوبصورت دنیا کے تخیل کے لئے لڑتے رہتے ہیں۔ ہاورڈ نے اس ناول میں امریکی خانہ جنگی کے بعد کی تاریخ کا ایک سنہرا لیکن بڑا ہی پیچیدہ اور دردناک دور لیا ہے۔ جب حبشی جنوبی امریکہ میں آزاد کردئیے گئے تھے اور سفیدفام جاگیرداروں کی زمینیں نیلام کردی گئی تھی۔ اس وقت کیسے حبشی غلاموں نے غریب گوروں کے ساتھ مل کر نئی زندگی کی تخلیق کی تھی۔ کنوئیں، سرائیں اور اسکول تعمیر کئے تھے۔ وہ زمانہ جب جیف نے اندھی آنکھوں سے محبت کی تھی۔ تاکہ ان میں روشنی آجائے۔ اور گڈن کے سیاہ فام ہاتھوں کی محنت کپاس کے سفید پھول بن کے کھل اُٹھی تھی اور پھر کس طرح کلاں والوں نے سرمایہ پرستوں اور جاگیرداروں کی شہ پر اس خوبصورت دنیا کے تباہ کرنے کے ارادے کئے۔ یہ ناول ان تمام واقعات کا ڈرامائی پس منظر اس کے متحرک کرداروں سمیت پیش کرتا ہے۔ اس قدر دلچسپ اور انسانی ہمدردی سے معمور کہ ظالموں کے لئے نفرت کی شدت کے باوجود جو قوی احساس ناول کے پڑھنے کے بعد انسان کے دل میں اُبھرتا ہے وہ ہےانسان کا علم اور تجربہ ، اس کی نرمی ،مہربانی ، عظمت اور ظلم پر فتح پانے کا پائیندہ احساس۔
ہاورڈ کی قلم میں کتنی طاقت تھی ، اس کا عکس آپ کو “آزادی کے بعد” میں ملے گا۔ اسی طاقت سے ڈر کر امریکی حکومت نے اُسے جیل میں بند کردیا تھا۔ لیکن اچھے خیالات اور قلم کی طاقت کو کون جیل میں بند کرسکتا ہے؟ ہاورڈفاسٹ کے خیالات قلم سے نکل کر لاکھوں کروڑوں انسانوں تک پہنچے اور انہیں اپنا ہمنوا بنا تے رہے۔
احسن علی خان ہماری مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس خوبصورتی سے اس ناول کا ترجمہ کیا ہے کہ ہاورڈ فاسٹ کے سادہ جذبات کی بھرپور شاعری اور ڈرامیت کھچ کر اس ترجمے میں آگئی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں