یوسف بن تاشفین از نسیم حجازی 254

یوسف بن تاشفین از نسیم حجازی

یوسف بن تاشفین ایک شاہکار تاریخی ناول از نسیم حجازی

یوسف بن تاشفین ، ہمیشہ کی طرح نسیم حجازی صاحب کا ایک اور شاہکار تاریخی ناول ہے۔ اس تاریخی ناول میں مراکش کے بانی حکمران “یوسف ابن ِ تاشفین کے حالات و واقعات بیان کی گئی ہے۔ اس ناول میں اندلس میں اسلامی سلطنت کے زوال کے اسباب اور مسلمانوں کی حالتِ زار کے بارے میں مکمل تفصیل کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس زمین کے کسی خطے میں شاید ہی انسانی نظر نے عروج و زوال کے وہ مناظر دیکھے ہوں جو اند لس کی تاریخ میں ہمیں نظر آتے ہیں۔اندلس کی تاریخ کے ایک باب میں ہمیں اگر امت مسلمہ کا عروج دیکھ کے تسکین اور امید ملتی ہے تو اگلے ہی باب میں زوال کی کہانیاں پڑھ کر دکھ اور نامیدی محسوس ہوتی ہے۔
یوسف بن تاشفین کا ذکر ہمیں اندلس کی اسلامی تارئخ کے درمیانی ادوار میں ملتا ہے جب مسلمان ، عیسائی بادشاہ الفانسو کے ہاتھوں میں کھیل کے آپس میں لڑنےمیں مصروف تھے اور اندلس کے مستقبل کو داؤ پر لگا چکے تھے۔ ایسے حالات میں اندلس کے چیدہ چیدہ مجاہدین ور علماء کرام نے افریقہ میں مرابطین کی امیر یوسف ا بن تاشفین سے مدد مانگی جنہوں نے عیسائی بادشاہ الفانسوں کو شکست فاش دیکر اندلس کے ڈوبتی ہوی کشتی کو سہارا دیا اور اس طرح اندلس میں مرابطین کے دور کا آغاز ہوا۔

نسیم حجازی جن کا اصل ناول شریف حسین ہے، پاکستان کی بلند پایہ مصنف، تاریخی ناول نگار اور سفرنامہ نگار تھے. نسیم حجازی بطور خاص اسلامی تاریخی ناول لکھنے کے لیے مشہور ہیں۔ حجازی صاحب غیر منقسم ہندوستان میں پیدا ہوئے اور آزادی کے بعد پاکستان ہجرت کرکے لاہور میں آباد ہوئے۔ اسلامی تاریخ پر مبنی ان کے ناولوں کو اردو ادب میں ایک منفرد مقام کا حامل سمجھا جاتا ہے۔
یہ کتاب اردو زبان میں واحد کتاب ہے جو ابھی تک یوسف ابن تاشفین کی شخصیت اور اُن کے کارناموں کے بارے میں لکھی جاچکی ہے۔ ہماری تاریخ کے اکثر مصنفین نے ہمارے دوسرے مشہور ہیروز جیسے خالد بن ولید، سلطان صلاح الدین ایوبی،محمد بن قاسم، اور محمود غزنوی وغیرہ کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے لیکن نسیم حجازی نے اسلامی تاریخ کے غیر معروف ادوار پر بھی توجہ دی ہے۔ انہوں نے سلطنتِ اسلامیہ کے عروج و زوال کے بارے میں خلفاء راشدین کے دورسے لیکر برصغیر کی تقسیم تک کے واقعات پر بہت کچھ تحریر کیا ہے۔
آفتاب کی روشنی میں ہم ان ستاروں کو بھول جاتے ہیں جو رات کی تاریکی میں بھٹکنے والے قافلوں کو منزل کی راہ دکھاتے ہیں۔ ہر قوم کی فتوحات کسی رجلِ عظیم کے ساتھ منسوب کی جاتی ہیں اور مورخ کا قلم ہمیشہ ان گمنام سپاہیوں کا تذکرہ کرنے سے قاصر رہتا ہے جن کے خون کی روشنائی سے تاریخ کے نئے نئے عنوان لکھے جاتے ہیں۔ ہر قوم اپنی عظمت کے تاج محل کو کسی شاہجہان کے خواب کی تعبیر سمجھتی ہے لیکن ہر تاج محل کی عظمت ان خاموش معماروں کی مرہونِ احسان ہے جن کا پسینہ پتھر کو موتی کی چمک اور پھول کی رعنائی عطاء کرتا ہے۔
یہ کتاب اندلس کی تاریخ کا وہ باب ہے جو ایک قوم کے گمنام رضاکاروں کے خُون اور پسینے سے لکھا گیا ہے۔ یوسف بن تاشفین ایک آفتاب تھا جو اُندلس کے مسلمانوں کے لئے آزادی اور مسرت کی صبح کا پیغام لے کر آیا تھا لیکن اُس کی نمود ان گمنام مجاہدوں کی قربانیوں کا صلہ تھی جنہوں نے آلام و مصائب کی تاریک راتوں میں اُمید کی قندلیں بلند کی تھیں اور جو ہماری تاریخ کے ہر دور میں وقت کی آندھیوں اور طوفانوں سے برسرِ پیکار رہے ۔ جن کی بے لوث قربانیوں کے طفیل ہمارا ماضی قابلِ فخر ہے اور جند کی جُرات و ہمت ہماری آنی والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہے۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں