گارساں دتاسی کے تمہیدی خُطبے از انجمن ترقی اردو ہند 166

گارساں دتاسی کے تمہیدی خُطبے

گارساں دتاسی کے تمہیدی خُطبے از انجمن ترقی اردو ہند

زیرنظر کتاب “گارساں دتاسی کے تمہیدی خُطبے” مشہور فرانسیسی ماہرِ لسانیات پروفیسرجوزف گارسین دتاسی کے تمہیدی خطبات کا مجموعہ ہے جو ہندوستانی زبان (اردو) کے درس کے آغاز پر ہر سال دئے جاتے تھے۔ اس مجموعے میں 1850ء تا 1855ء کے خطبات شامل کئے گئے ہیں۔ غلطیوں کی نشاندہی اور تصحیح کا کام جناب عبدالستار صدیقی صاحب نے انجام دیا اور انجمنِ ترقی اُردو ہند نے 1940ء میں شائع کیا۔
مستشرقین میں سے فرانسیسی اسکالر جوزف گارسین دتاسی خصوصی تعریف کے مستحق ہیں کیونکہ انہیں اردو زبان سے خصوصی لگاؤ تھا اور انہوں نے اپنی زندگی اردو کی خدمت کے لیے وقف کر دی تھی ۔ گارسین دتاسی نے اپنی زندگی کے 50 سال اردو زبان اور اس کے ادب کو لکھنے ، پڑھنے اور اس کی طرقی کے لئے کام کرنے میں گزارے۔ یہ اُس زمانے کی بات ہے جب اردو زبان کے کچھ بنیادی کام جیسے لغات، گرامر، ادبی تاریخ اور تنقید، یا تو اپنے ابتدائی مراحل میں تھے یا سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔ایسے وقت میں پروفیسر دتاسی نے اردو زبان کے لئے جو محققانہ کام انجام دیا وہ مستقبل کے محققین کے لیے یادگار ثابت ہوا۔
دتاسی 25 جنوری 1791ء یا 1794ء کو مارسیلز میں پیدا ہوا تھا جہاں اُس کا باپ ” جوزف ژاں گارسین تجارت کرتا تھا۔ دتاسی کو شروع ہی سے مشرقی زبانوں کے مطالعہ سے دلچسپی تھی چناچہ اپنی رسمی تعلیم مکمل کرنے کے بعد بیس برس کی عمر میں اس نے عربی زبان کی تحصیل شروع کی ۔ جلد ہی اسے اس امر کا احساس ہوا کہ مارسیلز میں رہ کر وہ اپنے شوقِ علمی کی تشفی نہیں کرسکتا، چناچہ1817ء میں وہ مارسیلز سے پیرس چلا گیا جہاں اس نے اپنے عہد کے مشہور مستشرق سلوستر دساسی سے السنہ شرقیہ کا درس لینا شروع کیا اور چارسال کی لگاتار محنت کے بعد عربی، فارسی، اور ترکی زبانوں پر عبور حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔ تعلیم کے اختتام پر اُس نے مقدِسی کی کتاب “کشف الاسرار عن حکم الطیور والازہار” کو صحیح متن اور فرانسیسی ترجمہ کے ساتھ شائع کیا۔ بعد ازاں وہ اپنے معلم دساسی کی سعی و سفارش پر فرانسیسی کالج برائے السنہ شرقیہ کا سکریٹری مقرر ہوا۔ اسی سال دسمبر 1821ء میں اُس نے شادی کی۔
1822ء میں فرانس میں مشہور ایشیاٹک سوسائٹی قائم ہوئی تو وہ اس کا آنریری سکریٹری اور ناظمِ کتب خانہ مقرر ہوا۔ اسی زمانے میں میں اسے اردو سیکھنے اور اس میں مہارت حاصل کرنے کی ضرورت کا احساس پیدا ہوا ، اس عرض سے اُس نے انگلستان کا سفر کیا اور ایسے انگریزوں سے یہ زبان سیکھی جو ہندوستان میں رہ چکے تھے اور جنہوں نے ہندوستانی زبان (اردو) کے قواعد اور لغت نویسی سے متعلق کام کیا تھا۔ سلوستر کے مشورہ پر جب پیرس میں اردو زبان کی تدریس کا باقاعدہ بندوبست کیا گیا تو پہلے وہ عارضی طور پر اردو کا پروفیسر مقرر ہوا اور بعد میں اس تقرر کو مستقل حیثیت دیدی گئی اور بقیہ عمر اس نے فرانس میں اردو زبان کی تعلیم و تدریس اور اس کو مقبول بنانے کی مختلف کوششوں میں صرف کی۔
وہ ہندوستان اور انگلستان کی علمی انجمنوں اور ادبی اداروں سے برابر خط و کتابت رکھتا تھا، کتابیں منگواتا اور اخبارات حاصل کرتا، نایاب کتابوں کی نقلیں مہیا کرنے کی سعی کرتا اور ہر نئے عیسوی سال کے شروع میں وہ گذرنے والے سال کی علمی و ادبی سرگرمیوں سے متعلق ایک مبسوط خطبہ دیتا تھا جس میں اردو کتابوں رسالوں، اخبارات اور مصنفین سے متعلق تفصیلی معلومات ہوتی تھیں، جسکا سلسلہ 1850ء سے 1869 تک جاری رہا۔
زیر نظر کتاب “گارساں دتاسی کے تمہیدی خُطبات” اُن کی لکچر کے آغاز میں دئیے جانے والے تقاریر کا مجموعہ ہے جو انہوں نے 1850ء سے 1855ء تک دئیے تھے۔ دتاسی اردوزبان و ادب کی تاریخ مرتب کرنے سے گہری دلچسپی رکھتا تھا جس کی نشان دہی اس کے خطبوں سے بھی بخوبی ہو جاتی ہے۔ یہ کتاب بھی اسی سلسلہ سے تعلق رکھتا ہے جس کی بارے میں مولانا عبدالحق نے “خطباتِ گارساں دتاسی ” کے مقدمہ میں لکھا ہے۔
ان خُطبات کے علاوہ اُس کی ادبی کارناموں میں میر کی مثنوی “اژدر نامہ” تحسین الدین کی مثنوی” کام روپ و کلا” سرسید کی کتاب “آثار الصنادید” اخوان الصفا کے اقتباسات ” تاج ملوک و گل بکاؤلی” اور میرامن کی کتاب “باع و بہار” کے تراجم خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ تاریخِ ادبیات ہندوی و ہندوستانی” کی ترتیب و تالیف اُسکی بہترین ادبی فتوحات میں سے ہے۔
2 دسمبر 1878ء کو 84 برس کی عمر میں اس عظیم ماہرِ لسانیات کا انتقال ہوگیا، لاش مارسیلز لے جائی گئی اور سینٹ پیٹر کے قبرستان میں دفن ہوئی۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈکریں

اپنا تبصرہ بھیجیں