پٹھانوں‌کے رومان از فارغ بخاری 438

پٹھانوں‌کے رومان از فارغ بخاری

کتاب ” پٹھانوں‌کے رومان” پشتو لوک کہانیاں تحریرفارغ بخاری اور رضا ھمدانی

دُنیا کے دوسرے اقوام کی طرح پٹھانوں میں بھی کئی لوک کہانیاں مشہور ہیں۔ ان بے شمار کہانیوں میں چند ایک ایسی بھی ہیں جو شدت تاثر کے باعث سارے پٹھان معاشرے میں پسند کی جاتی ہیں۔ بعض کہانیاں تو پٹھانوں میں عمومی حثیت رکھتی ہیں۔ جو ہر علاقے، ضلع، قبیلے، تپے اور گاؤں میں رائج ہیں۔ لیکن کچھ ایسی بھی ہیں جو صرف ایک خطے یا قبیلے تک محدود ہیں۔
پشتو کی لوک کہانیاں سب کے سب منظوم اور مطبوعہ ہیں جو بہ آسانی دستیاب ہو جاتی ہیں۔ مختلف شعرا یا نظم گو فنکاروں نے ان کہانیوں کو شعری قالب میں ڈھالا ہے۔ مقامی یا علاقائی کہانیوں کے علاوہ بے شمار ایسی کہانیاں بھی ہیں جو یکسر حارجی ہیں۔ اور پٹھان معاشرے کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں۔ ان میں زیادہ تر جنوں، دیووں اور پریوں کے قصے، طلسماتی کہانیاں اور اساطیری و ماورائی انداز کے افسانے ہیں۔ بعض تو فارسی ادب سے براہ راست ترجمہ کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں گل بکاؤلی، گل صنوبر، لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، بہرام و گل اندام ، گلفام شہزادہ، سیف الملوک بدیع الجمال وغیرہ کے نام لئے جاسکتے ہیں۔ یہ قصے کہانیاں بھی تمام کے تمام منظوم ہیں۔
زیرنظر مجموعہ ان کہانیوں کا اردو روپ ہے جو پٹھان معاشرے کے ساتھ تعلق رکھتی ہیں۔ اور جن میں اسی معاشرے کے خدوخال نمایاں ہیں۔ یہ کہانیاں ان کئے لوک کہانیوں کا ایک کڑا انتخاب ہے جو پٹھانوں میں رائج ہیں اور صرف پٹھان داستاں نگاروں کے تخئیل کے اپج ہیں۔ بعض مقامی کہانیوں میں بھی ماورائی افسانے اور روزمرہ کی زندگی سے ہٹ کر طبع آزمائی کی گئی ہے۔ لیکن جو انتخاب پیش کیا جارہا ہے اس میں ایسی باتیں کم دیکھنے کو آئیں گی۔ پشتو کی ان عوامی کہانیوں میں چند ایک چیزیں قدرِ مشترک کی حیثیت سے پائی جاتی ہیں۔
عشق و محبت، خلوص و عزم، احساسِ قومی اور ایفائے عہد۔
یہ روح ان تمام کہانیوں میں مختلف رنگوں میں جلوہ گر ہے۔ ویسے جہاں تک مرکزی کردار کا تعلق ہے تمام کہانیاں ایک غیر معمولی حسین و جمیل محبوبہ کے گرد گھومتی ہیں۔ اور اس لحاظ سے ہمارے پشتون داستان سازوں کے اعصاب پر بھی عورت ہی سوار ہے۔ البتہ یہ عورت ایک مثالی عورت ہے ۔ عظیم کردار کی مالکہ بڑی پاکباز، ہر حال میں اپنی قبائلی روایات کا تحفظ کرنے والی شیردل عورت۔
اس قسم کی کہانیاں دنیا کی مختلف اقوام ، قبائل اور معاشروں میں رائج ہیں۔ اگر تاریخ کی روشنی میں ان کا جائزہ لیا جائے تو کوئی کہانی بھی اس معیار پر پوری نہیں اتر سکتی۔ پٹھانوں کی لوک کہانیاں بھی اسی ذیل میں آتی ہیں۔ ان کو بھی تاریخ کی کسوٹی پر جانچنے سے ان کی ادبی ، روایتی اور کلاسیکی حیثیت مجروح ہوگی۔ ان کا فادی پہلو یہ ہے کہ ہم ان کے ذریعے یہ اندازہ کرسکتے ہیں کہ آج سے صدیوں پہلے کا پٹھان کیا تھا۔ اس کا رہن سہن کس ڈھب کا تھا۔ ان کے عادات و خصائل اور اندازِ معاش و معاشرت کس طرح کے تھے۔ اور اس کے وسائل و ذرائع کیا تھے۔
اس مجموعے میں جن کہانیوں کو اردو کا لباس دیا گیا ہے۔ وہ ہو بہو اصل کا ترجمہ نہیں بلکہ کہانی کے مواد اور داستان ساز کے منشا کو افسانوی زبان میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ البتہ بعض مقامات ایسے بھی آ گئے ہیں جہاں مقامی رنگ جوں کا توں قائم رکھا گیا ہے۔ غالباً اُردو ادب میں اپنے ڈھب اور انداز کی یہ پہلی کوشش ہے۔ امید ہے قارئین اس کوشش کو ضرور سراہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں