Bagh o Bahar by Mir Amman 614

باغ و بہار از میر امن دہلوی

کتاب ” باغ و بہار یا قصہ چار درویش” از میرامن دہلوی

باغ بہار چار درویشوں کی ایک کلاسک کہانی ہے جو میرامان دہلوی نے گل کرسٹ کے کہنے پر فورٹ ولیم کالج میں لکھی۔ فورٹ ولیم کالج انگریزوں کو مقامی زبانوں سے واقف کرانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ میرامن نے باغ بہار میں ایسا جادو کیا ہے کہ جب تک اردو زبان زندہ ہے ، یہ مقبول رہے گی اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی قدر کم نہیں ہوگی۔
اردو نثر میں “باغ بہار” کی مقبولیت کسی اور اردو کہانی سے مماثل نہیں ہے۔ اور اس طرح یہ کہانی اردو نثر میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کیونکہ اردو نثر میں پہلی بار سادہ اور آسان جملے استعمال کیے گئے جو کہ اس کہانی کی وجہ سے ممکن ہوا، بعد میں ، غالب نے اسے اوج کمال پر پہنچا دیا۔ باغ بہار اردو نثر کی چند کتابوں میں سے ایک ہے جو ہمیشہ زندہ رہے گی اور دلچسپی سے پڑھی جائے گی۔
باغ و بہار” جسے میر امن نے فارسی زبان سے اردو میں ترجمہ کیا تھا۔ یہ کتاب 1804 میں جان گلکرست کی نگرانی میں چھپ کر منظر عام پر آئی تھی اور اپنی مقبولیت کی بنا پر بہت زیادہ مشہور ہوئی۔مگر جب یہ پرنٹ ہو کرآئی تو اس میں بہت زیادہ اغلاط تھیں جس کی فہرست کو بھی اس کتاب کے آخر میں شایع کیا گیا۔ اس کے بعد رشید حسن خان نے 1992 مین اس کے متن کی تصحیح کر کے چھاپا جو بہت ہی زیادہ سراہا گیا اور انہوں نے لندن والے قلمی نسخے کو اہمیت دی۔
مگر 2012 میں ڈاکٹر فیروز احمد کو ایک قلمی نسخہ جے پور میں دستیاب ہوا جو باقی تمام نسخوں میں بہتر اور اغلاظ سے پاک تھا۔ اس لئے انہوں نے اس کو دوبارہ شایع کرنے کی سعی بے حد کی ہے۔ جو نسخہ اساسی قرار دیا گیا ہے وہ 10 شوال 1247 ھ مطابق 13 مارچ 1832 ء میں لکھا گیا۔ اور یہ نسخہ اساسی کی حیثیت سے سامنے رکھ کر اس کی اغلاط کو درست کیا گیا اور منشاء مصنف کے مطابق مانا گیا۔ اس لئے ضروری ہے کہ اس متن کا مطالعہ کیا جائے تاکہ دوسرے چھپے ہوئے ایدیشنس سے اس کا تقابل ہو اور یہ جانا جا سکے کہ آخر کون سا ایڈیشن زیادہ صحیح ہے۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں