اُمراؤ جان ادا ناول از محمد ہادی رُسوا 211

اُمراؤ جان ادا ناول از محمد ہادی رُسوا

اُمراؤ جان ادا اردو معاشرتی ناول از محمد ہادی رسوا

“اُمراؤ جان ادا ” مرزا محمد ہادی رسوا لکھنوی کا ایک شاہکار معاشرتی ناول ہے، جس میں انیسویں صدی کے لکھنؤ کی سماجی اور ثقافتی جھلکیاں بڑے دل کش انداز میں دکھلائی گئی ہیں۔ لکھنؤ اُس زمانے میں موسیقی اور علم و ادب کا گہوارہ تھا۔ رسوا نے ان خوب صورت محفلوں کی تصاویر بڑی مہارت اور خوش اسلوبی سے کھینچی ہیں۔
مرزا رسوا لکھنؤ کے محلے “کوچہ آفریں علی خان” میں فروری 1885ء میں پیدا ہوئے۔ “رسوا” ان کا تخلص نہ تھا بلکہ قلمی نام تھا جو ناولوں کے لئے اختیار کیا ۔ اپنے زمانے کے خوش فکر شاعر بھی تھے اور مرزا تخلص کرتے تھے۔ ان کا منظوم ڈرامہ “مرقع لیلیٰ مجنوں ” بہت مشہور ہوا۔
مرزا نسلاً مغل ماژندرانی ہیں، البتہ ان کی نانی طباطبائی خاندان سے تھیں۔ اُن کے جدِ اعلیٰ مرزا رشید بیگ ماژندران ایران سے دہلی آئے اور شاہی فوج میں ملازم ہوئے۔ دلی پر جب زوال آیا تو ان کے صاحب زادے مرزا ذولفقار علی بیگ، دہلی سے فیض آباد آئے اور توپ خانہ شاہی میں اجیٹن (Adjutant) مقرر ہوئے۔ جب لکھنؤ ریاستِ اودھ کا دارالسلطنت بنا تو وہ بھی فیض آباد سے لکھنؤ منتقل ہوگئے۔
مرزاہادی کے والد کا نام آغا محمد تقی تھا۔ اُنہی نے مرزا کو صرف و نحو، عربی، فارسی اور حساب کی ابتدائی تعلیم دی۔ سولہ سال کی عمر میں والد کا انتقال ہوگیا۔ بسر اوقات کے لئے ننھیال سے کافی جائداد ملی، مگر خالہ اور ماموں نے اس پر قبضہ کرلیا۔ تاہم خواجہ باسط کے ٹیلے پر چند مکانات مرزا کو مل گئے اور وہ ان کا کرایہ وصول کرنے لگے، جو مرزا کے اخراجات کے لئے کافی تھا۔ مگر مربی اور سرپرست نہ ہونے کی وجہ سے یہ جائداد بھی رنگین مزاجی، فضول خرچی اور احباب پرستی کی نذر ہوگئی۔
مرزا نے عربی مولانا محمد یحییٰ لکھنوی سے ، منطق مولانا کمال الدین موہانی سے اور طب مولانا غلام الحسین کنتوری سے پڑھی۔ انگریزی کے لئے لامارٹیز کالج میں داخلہ لیا۔ 1876ء میں رڑکی کالج سے بس اوورسیری کا امتحان پاس کیا اور رائے بریلی میں اوورسیر ہوگئے۔ مگر طبیعت میں آزادی تھی ، ڈیڑھ برس بعد استعفا دے دیا اور واپس لکھنؤ آگئے۔ اُسی زمانے میں کوئٹے کے گرد و نواح میں ریلوے لائن بچھائی جا رہی تھی، مرزا اوورسیر کے حیثیت سے اس ریلوے میں ملازم ہوگئے۔ تقریباً ڈیڑھ سال بعد کافی روپیہ پس انداز کرکے فلسفہ اور سائنس کی کتابوں اور کیمسٹری کے آلات کا آرڈر ولایت بھیج کر استعفا دے دیا اور لکھنؤ آگئے ، جہاں نت نئے کیمیاوی تجربات میں منہمک ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ چاندی بنانے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ کچھ عرصے کے بعد مالی پریشانیوں سے مجبور ہوکر یہیں چرچ مشن اسکول میں مدرس ہوگئے۔ یہیں سے پرائیویٹ طور پر 1883ء میں فاضل فارسی اور 1884ء میں میٹرک کے امتحانات پاس کئے۔ 1876ء میں انہوں نے اُردو کا پہلا فلسفیانہ رسالہ “اشراق” جاری کیا ، مگر کچھ عرصے بعد یہ رسالہ بند ہوگیا۔
1888ء میں جب ریڈ کرسچئن کالج قائم ہوا تو ذاتی قابلیت کی بدولت عربی و فارسی کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اس عہدے پر انہوں نے تقریباً تیس سال کام کیا اور اکثر فلسفہ ، کیمیا، ہیت اور تاریخ کی معلمی کے فرائض بھی انجام دئے۔ بعد میں ازابیلا تھوبرن گرلز کالج میں بھی شام کو پڑھانا شروع کردیا۔ اسی زمانے میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے 1891ء میں ایف۔اے اور 1894ء میں بی۔اے کے امتحانات پاس کئے۔ اخراجات روزبروز بڑھتے جارہے تھے ، آمدنی کم تھی لہٰذا قرض دار ہوگئے۔ آخر 1901ء میں حیدرآباد دکن ملازم ہوکر چلے گئے۔ وہاں اسہال کی شکایت ہوئی۔ دو سال بعد کالج ہی کی ملازمت پر واپس لکھنؤ آگئے۔ 1903ء میں رسلہ ” الحکم” جاری کیا، جس میں مذہبی ع علمی مضامین شائع ہوتے تھے۔ 1919ء میں وہ دارالترجمہ حیدرآباد دکن میں رکنِ شعبہ فلسفہ کی حیثیت سے چلے گئے اور متعدد کتابیں اردو میں ترجمہ کیں۔ وہیں 21 اکتوبر 1931ء کو ان کا انتقال ہوگیا۔
مرزا غیرمعمولی ذہنی صلاحیت رکھتے تھے۔ فلسفے کے علاوہ کیمیا، ہیئت ، ریاضی ، نجوم، موسیقی اور مذہبی امور میں بڑی دسترس حاصل تھی۔ کئی کتابیں بھی ان موضوعات پر لکھیں۔ ان کے اکثر مضامین غیر ممالک میں بھی شائع ہوئے، حصوصاً امریکہ کے رسالے “فلاطونی” میں ان کے مضامین اکثر شائع ہوتے تھے اور قدر کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔
مرزا رسوا شاعر، فلسفی یا سائنسدان کی حیثیت سے مشہور نہیں ہوئے، ان کی شہرت ان کے ناولوں کی وجہ سے ہے ۔ اس سلسلے میں اس دلچسپ حقیقت کا بیان بھی ضروری ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں کو اپنے مرتبے سے کم تر سمجھا اور “محمد ہادی” ناول نگاری کی دنیا میں “مرزا رسوا” کا نقاب پہن کر آئے۔ علمی تصانیف کے برخلاف ناول عام طور پر انہوں نے اس وقت لکھے جب انہیں روپوں کی ضرورت ہوئی۔
مرزا نے پانچ طبع زاد ناول لکھے: افسائے راز حصہ اول 1896ء ، اُمراؤ جان ادا 1899ء ذات شریف جنوری 1900ء شریف زادہ دسمبر 1900ء اور ختری بیگم 1924ء ۔ ان کے علاوہ انہوں نے کئے انگریزی ناولوں کے ترجمے بھی کئے یا ایسے ناول لکھے جو انگریزی ناولوں سے ماخوذ ہیں۔ افشائے راز جو نامکمل رہا، ایک مبتدی ناول نگار کی تمام خامیوں کے باوجود اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ “امراؤ جان ادا” میں جو باتیں اپنے عروج پر ہیں، ان کے ابتدائی مراحل اس ناول میں نظر آتے ہیں۔ لکھنؤ شہر، اس کے رہنے والے، اس کی عمارتیں، اس کے محلے اور اس کا سماجی پس منظر اس ناول میں اس انداز سے بیان کیا گیا ہے کہ قاری اس سماجی ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔ “اُمراؤ جان ادا” کا موضوع بھی یہی ہے۔ فرق یہ ہے کہ اب فن اور اظہار میں رچاؤ، پختگی، ندرت اور دل آویزی آگئی ہے۔
“اُمراؤ جان ادا” کی ہماری ادب میں ایک تاریخی حیثیت ہے۔ شرر کے خیالی قصوں اور نذیر احمد کی اصلاح پسندی کے برخلاف یہ ناول اردو ناول نگاری میں زندگی کی واقعیت اور فن کی حسن کاری کو جنم دیتا ہے۔ ناول کے کردار مرزا کے اپنے ماحول کے چلتے پھرتے افراد ہیں۔ واقعات ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور کرداروں کی سیرتوں اور واقعات کے مابین کشمکش سے پلاٹ میں تبدیلیاں پیدا ہوتی ہیں۔ کردار اور پلاٹ ایک دوسرے میں گھل مل گئے ہیں۔ پلاٹ میں ایک نظم، روانی اور تسلسل پایا جاتا ہے۔ اس ناول میں احساسِ توازن بھی پایا جاتا ہے۔ طنز ، شوخی، تشبیہات، محاورات، منظر نگاری سبھی کچھ ایک خاص ترکیب و ترتیب سے لائے گئے ہیں۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں