ناول: جوکر
مصنف: اشعر نجمی
کتاب کا تعارف: سعیدخان
یہ ناول دراصل ایک گہری اور معنی خیز سماجی کہانی پر مشتمل ہے، جو ہمارے عہد کے انسان، اس کے رویّوں، اس کی خود فریبی اور اجتماعی تضادات کو نہایت فنکارانہ انداز میں بے نقاب کرتی ہے۔ جوکر سماج کے اس اسٹیج کی داستان ہے جہاں ہر شخص کسی نہ کسی روپ میں کردار ادا کر رہا ہے اور حقیقت مکھوٹوں کے پیچھے چھپتی چلی جاتی ہے۔
ہم عموماً اپنے بستر کے نیچے چھپے راکشسوں سے خوف زدہ رہتے ہیں، مگر یہ ناول ہمیں چونکا دینے والے شعور تک لے جاتا ہے کہ اصل راکشس ہمارے باطن میں موجود ہیں۔ اشعر نجمی کا جوکر محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک تھیٹر ہے، جہاں قاری تماشائی بھی ہے اور خود کو کرداروں میں پہچاننے پر مجبور بھی۔
اس ناول کی سب سے نمایاں خصوصیت مصنف کی وہ طنزیہ اور مزاحیہ دھار ہے جو بظاہر مسکراہٹ پیدا کرتی ہے مگر درحقیقت نفس کے پردوں کو چیر ڈالتی ہے۔ جوکر انسانوں کے پھوہڑ پن، منافقت اور اخلاقی زوال کی ایک بے رحم پیروڈی ہے۔ یہاں کوئی ایک کردار جوکر نہیں بلکہ ہر کردار کے چہرے پر جوکر کا مکھوٹا سجا ہوا ہے، اگرچہ ان مکھوٹوں کے رنگ اور انداز جدا جدا ہیں۔ یہ ایک ایسا کارنیوال ہے جسے دیکھ کر نہ مکمل ہنسی آتی ہے اور نہ آنسو، بلکہ ایک عجیب سی فکری بے قراری جنم لیتی ہے۔
فنی اعتبار سے یہ ناول ارسطوئی پلاٹ کی روایت کا حامل ہے، جہاں واقعات آغاز، وسط اور انجام کی منطقی ترتیب کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں اور علت و معلول کا رشتہ پوری طرح قائم رہتا ہے۔ یہ اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ اشعر نجمی نہ صرف تجرباتی اسلوب پر قدرت رکھتے ہیں بلکہ کلاسیکی بیانیے پر بھی بھرپور گرفت رکھتے ہیں۔
مصنف خود کو کسی ایک طے شدہ اسلوب کا پابند نہیں بناتے۔ ان کے نزدیک ہر نیا ناول ایک نیا کھیل ہے، جس کے اصول ابتدا میں غیر واضح ہوتے ہیں۔ یہی غیر یقینی کیفیت، یہی خطرہ مول لینے کا جذبہ جوکر کو تخلیقی توانائی عطا کرتا ہے۔ یہ ناول اپنی رفتار، اپنی قوت اور اپنی داخلی منطق کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور قاری کو بھی اس کھیل میں شریک کر لیتا ہے۔
جوکر فن کو محض اظہار نہیں بلکہ فتح سمجھنے والے تخلیقی شعور کا عکاس ہے۔ یہ ناول قاری سے سہولت یا تسلی کا وعدہ نہیں کرتا، مگر اسے ایک ایسے فکری اور سماجی کھیل کا حصہ ضرور بناتا ہے جس سے گزرنا خود ایک معنی خیز تجربہ ہے۔