سلطان جلال الدین خوارزم شاہ از مولانا محمداسمٰعیل ریحان 366

سلطان جلال الدین خوارزم شاہ از مولانا محمداسمٰعیل ریحان

شیرِ خوارزم سلطان جلال الدین خوارزم شاہ اور تاتاری یلغار از مولانا محمداسمٰعیل ریحان اُستاد تاریخِ اسلام ، جامعۃ الرشید کراچی۔

ایک دردناک نثری مرثیہ، ایک ناقابلِ فراموش داستان۔ ساتویں صدی ہجری میں عالمِ اسلام پر تاتاریوں کی ہولناک یلغار کا تاریخی جائزہ، سلطان جلال الدین خوارزم شاہ کے دفاعی کارناموں کا ولولہ انگیز تذکرہ، عالمِ اسلام اور حرمین شریفین کے تحفظ کی خونچکا جدوجہد۔
یہ دردناک داستان ایک ایسے دور میں تحریر کی گئی ہے جب کہ اسلام اور کفر کے درمیان ایک فیصلہ کن لڑائی کا وقت بہت قریب آچکا ہے۔ کفر مغرب کا ہو یا مشرق کا، اسلام کے نام لیواؤں کو نیست و نابود کرنے کے لئے اپنے ترکش کے تمام تیر اکٹھے کر چکا ہے۔ ہندو کی صورت میں اس دور کے عفریت اپنے لاؤ لشکر سمیت مملکتِ خداداد پاکستان پر چڑھائی کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ ماوراء النھر کے مسلمانوں کو فکری اور نظریاتی محاز پر ایک مرتبہ پھر ایسی آندھیوں کا سامنا ہے جو کہ آج سے آٹھ سو سال قبل ان کے آباؤ اجداد کے ساتھ پیش آمدہ المیوں سے کم سنگین نہیں ہیں۔ قفقاز کے مسلمان جذبہ حریت کے انہی ناقابل فراموش مناظر کو دھرا رہے ہیں جو کسی زمانے میں سلطان جلال الدین کی قیادت میں اُس دور کے بہادر مسلم نوجوان پیش کرچکے تھے۔ بیت المقدس آج پھر کفار کے چنگل میں ہے، کعبۃ اللہ اور روضۃ الرسول کے امین جزیرۃ العرب کے گرد یہود و نصاریٰ کا اقتصادی اور عسکری محاصرہ سخت سے سخت تر ہوتا جارہا ہے۔ عالمِ اسلام کا کوئی بھی گوشہ آج کفار کی چیرہ دستیوں سے محفوظ نہیں ہے۔
آج ایک طرف کفریہ طاقتوں کے سرغنوں میں چنگیزخان کی روح ایک بار پھر کارفرما دکھائی دے رہی ہے، تو دوسری طرف سلطان جلال الدین کی صدائے جہاد بھی ایک مرتبہ پھر سے گونج رہی ہے۔ اُن کا کردار مسلمانوں کو عسکری و نظریاتی جہاد کے میدانوں میں پکار رہا ہے۔ تو کیا اب پھر مسلمان اپنے فریضے سے پہلوتہی کریں گے؟ کیا ایک مرتبہ پھر اسلام کے اس لہلہاتے چمن کو ویران کردیا جائے گا؟
آنکھیں کھولئے اور دیکھئے۔۔۔۔ کشمیر میں یہ سب کچھ ہوچکا ہے۔ چیچنیا میں یہ کہانی دھرائی جاچکی ہے، بوسنیا اور کوسوو، زبانِ حال سے دہائی دے دے کر خاموش ہوچکے ہیں، افغانستان، عراق اور فلسطین کے مسلمان ہمیں اپنی مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔ تو اے مسلمانوں! کیا تم اب بھی مستی کی نیند میں غرق رہوگے۔ کیا تم اب بھی آپس کے اختلافات اور انتشار کا شکار رہوگے؟ کیا اب بھی۔۔۔ کیااب بھی؟؟ حالات تمہیں جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر جگا رہے ہیں ، کل قیامت کے دن تمہارے پاس یقیناً کوئی عذر نہیں ہوگا۔
زیرِ نظر کتاب عالمِ اسلام کا درد اور تاریخی و تحقیقی ذوق رکھنے والے عظیم مورخ کی قوتِ فکر، شب و روز کی محنت اور اُس کی جستجو کا کرشمہ ہے۔ تاریخ کے موضوع سے واقفیت رکھنے والے قارئین جب اس کتاب کا گہری نظر سے مطالعہ کریں گے تو اس کتاب پر کی جانے والی جان توڑ محنت اور اس میں موجود اچھوتا پن ان سے پوشیدہ نہیں رہے گا۔ آج سے سینکڑوں برس قبل امت مسلمہ کو پیش آنے والے وہ دلدوز حادثات اور جگرسوز سانحات جو تاریخ کی مختلف کتابوں سے چُن چُن کر صفحات میں پروئے گئے ہیں ، اس قدر زُود اثر ہیں کہ پڑھنے والے شخص کی آنکھیں اشک بار اور دل درد و غم سے تڑپ اُٹھتا ہے۔
یہ کتاب درحقیقت امتِ مسلمہ کو بیدار کرنے اور اسے آئندہ آنے والے خطرات کے مقابلہ کے لئے تیار کرنے کی کوششوں کا ایک ادنیٰ حصہ ہے، جو آج امت کے دردمند اہلِ قلم سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ ایک آئینہ ہے جو ماضی میں کی گئی امتِ مسلمہ کی غفلتوں، غلطیوں، کوتاہیوں اور لغزشوں اورا ن پر مرتب ہونے والے بھیانک واقعات اور سبق آموز نتائج کو نگاہوں کے سامنے واضح کرکے ہمیں مستقبل میں پیش آنے والے خطرات سے آگاہ کررہا ہے۔
امتِ مسلمہ پر مصائب کا ایک بھیانک دور ہم سے سینکڑوں برس قبل گزرچکا ہے اور دوسرا دور آج پوری طرح ہم پر مسلط ہے، ان دونوں پُرخطر زمانوں کے متعلق احادیث مبارکہ میں پیش گوئیاں موجود ہیں۔ افسوس کہ اس وقت امت انہی غلطیوں کو اجتماعی طور پر زور و شور سے دھرا رہی ہے جن کے نتیجہ میں ماضی کی مسلم آبادی کو اپنے نصف حصہ سے محروم ہونا پڑا تھا۔ جب آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں گے اور پھر اپنے گردوپیش پر نظر دوڑائیں گے تو آپ کو کائنات کی ہر چیز چیخ چیخ کر پکارتی ہوئی محسوس ہوگی کہ آج ہم ایک مرتبہ انتہائی مجرمانہ کردار ادا کرتے ہوئے اپنی اور آئندہ آنے والی نسلوں کے ایمان، عزت و ناموس اور ان کی آزادی کو عالمِ کفر کی انہی آتشیں آندھیوں کے سپرد کرچکے ہیں جو ہماری ہستی کو پہلے بھی بارہا جلا کر راکھ کرچکی ہیں۔
کتاب کا مصنف مولانا محمد اسماعیل ریحان دورحاضر کے مشہور اسلامی سکالر، بلند پایہ مؤرخ ،کالم نگار اور تجزیہ نگار ہے۔ آپ نے جامعۃ مہد الخلیل سے تعلیم حاصل کی ہے اور ایک عرصے سے جامعۃ الرشید کراچی میں تاریخ اسلام اور الغزو الفکری (نظریاتی جنگ) جیسے موضوعات کے استاد ہیں۔روزنامہ اسلام اور ہفت روزہ ضرب مومن میں ان کے کالم بھی شائع ہوتے رہتے ہیں۔ مولانا اسماعیل ریحان جس موضوع پر بھی قلم اٹھاتے ہیں اس کا مکمل احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تحقیق پر طویل وقت خرچ کرتے ہیں بعض دفعہ ایک موضوع پر دس سال تحقیق کرنے کے بعد اسے کتابی شکل میں منظر عام پر لاتے ہیں۔ ان کی تاریخ نگاری دعوتی اور اصلاحی مقاصد کے لئے ہوتی ہے۔ زبان سہل اورسلیس الفاظ میں تاریخی واقعات بیان کرتے ہیں۔
تاحال ان کی مندرجہ ذیل تصانیف منظرِ عام پر آچکی ہیں:
سلطان صلاح الدین ایوبی (دو جلدیں)
تاریخ افغانستان (دو جلدیں)
سلطان جلال الدین خوارزم
داستان ایمان فروشوں کی ۔ تحقیقی جائزہ
تیرے نقش پا کی تلاش میں
نظریاتی جنگ کے محاذ
نظریاتی جنگ کے اُصول
آستین کے سانپ
تاریخ امت مسلمہ (چھ جلدیں)
بارگاہ ربِ ذوالجلال میں التجا ہے کہ مصنف کی اس شاندار کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرما کر انہیں اجرِ عظیم عطاء فرمائے اور اس کوشش کو امتِ مسلمہ کی بیداری کا ذریعہ بنائے۔ (آمین)

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں