خلافتِ اندلُس از مرحوم نواب ذوالقدر جنگ بہادر 90

خلافتِ اندلُس از مرحوم نواب ذوالقدر جنگ بہادر

خلافتِ اندلُس از مرحوم نواب ذوالقدر جنگ بہادر۔ تصحیح و نظرثانی از مولانا مفتی محمدامین پالنپوری
کتاب “خلافتِ اندلس” ملک سپین میں قومِ عرب کی آٹھ سو سالہ دور حکومت، اُن کی حیرت انگیز ترقی اور عبرت آمیز تنزل کی جامع تاریخ ہے۔
تاریخ دراصل نام ہے اُن اولوالعزم اور صاحبِ کمال لوگوں کے واقعات اور سرگزشت کا جو ہمیشہ کے لئے اپنا نام صفحہ ہستی پر ثبت کر گئے۔ اس لئے تاریخی کتابوں کا مطالعہ بیحد مفید ہے کیوں کہ تاریخ کی کتابوں سے ہمیں قوموں کے عروج و زوال کے اسباب کا پتہ چلتا ہے۔ جس سے حوصلہ بلند ہوتا ہے، ہمت بڑھتی ہے، اچھے کاموں کی رُغبت اور بُرے کاموں سے نفرت پیدا ہوتی ہے، دانائی، بصیرت اور دوراندیشی بڑھتی ہے۔ تاریخ کا مطالعہ کرنے والا کبھی بادِ مخالف سے حیران و پریشان نہیں ہوتا، وہ ہر وقت اپنے آپ کو پیغمبروں، ولیوں، بادشاہوں، وزیروں، فاتحوں، حکیموں، ادیبوں، دانشوروں اور باکمال لوگوں کی مجلس میں پاتا ہے، اور ان سب سے خوب استفادہ کرتا ہے۔ اور بادشاہوں ، وزیروں، سپہ سالاروں، حکیموں اور دانشوروں سے جو غلطیاں سرزد ہوئی ہیں اُن سے محفوظ رہ سکتا ہے۔
الغرض تاریخ بڑا دلچسپ، تجربہ خیز، اور نصیحت آموز فن ہے، جس کے مطالعہ سے ہر ذی فہم اور صاحبِ اِدراک دنیا کے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہوسکتا ہے ، اور خوب ترقی کرسکتا ہے۔
مرحوم نواب ذولقد جنگ بہادر کی یہ کتاب “خلافتِ اندلس” نہایت معتبر اور اندلس کی اسلامی تاریخ پر اردو میں جتنی کتابیں دستیاب ہیں، ان میں سب سے بہتر ہے۔ یہ کتاب پہلی مرتبہ 1904ء میں شائع ہوئی تھی، پھر نظرثانی اور مفید اضافوں کے ساتھ “دارلطبع سرکاری عالی حیدرآباد سے سنہ 1933ء میں شائع ہوئی۔
ہمارے سامنے یہی نظرثانی اور مفید اضافوں والا ایڈیشن ہے۔ اس کی کتابت و طباعت نہایت عمدہ ہے، لیکن اس کا رسم الخط قدیم ہے، اور تمام عناوین ابواب کے شروع میں ہیں۔ نیز فارسی اشعار کا ترجمہ نہیں ہے اور اکثر عربی اشعار اور ان کے ترجموں میں اغلاط ہیں۔ اس لئے نظرثانی اور تصحیح کے بعد اس کو ازسرِ نو شائع کیا جارہا ہے۔
اس کی تصحیح اور نظرثانی پر جو کام مفتی محمد امین صاحب نے کیا ہے وہ تفصیل حسبِ ذیل ہے:
1. قدیم رسم الخط کو جدید رسم الخط سے بدلا ہے۔
2. ہر مضمون کے شروع میں عناوین کا اضافہ کیا ہے۔
3. تمام فارسی اشعار اور محاوروں کے ترجمے کئے ہیں۔
4. عربی اشعار اور کے ترجموں کی تصحیح کی ہے۔
5. نہایت مشکل الفاظ کی بین القوسین وضاحت کی ہے۔
6. جہاں اغلاط کی تصحیح کی ہے وہاں حاشیہ میں اصل عبارت بھی درج کردی ہے۔
7. کتاب کے آخر میں “راہ نمائے لغات” کا اضافہ کیا ہے، جس کو مفتی مصطفیٰ امیں پالنپوری نے مرتب کیا ہے۔
الغرض کتاب کو عمدہ اور آسان کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے، اور کتابت کے بعد تصحیح کا پورا اہتمام کیا گیا ہے۔
اس کتاب “خلافتِ اندلس ” کے کل چار حصے ہیں۔ حصہ اول میں خلافت بنی امیہ (دمشق) کے زمانے میں جن اُمراء نے اندلس پر حکومت کی ہے اُن کی حیرت انگیز فتوحات اور کارناموں اور خلافت بنی امیہ کے خاتمہ کے بعد عبدالرحمٰن الداحل کا بھاگ کا اندلس میں پہنچنے کا تذکرہ ہے۔ یہ اندلس میں مسلمانوں کی حیرت انگیز ترقی کا زمانہ ہے۔
حصہ دوم میں اندلس کے سلاطین اور خلفائے بنی امیہ کی مفصل تاریخ اور محمد بن ابی عامر المنصور اور اُس کے بیٹوں کی سازشوں اور کامیابیوں اور طوائف الملوکی کا تذکرہ ہے۔ یہ اندلس میں سلاطین و خلفائے بنی امیہ کی حیرت انگیز ترقی اور المنصور کے تسلط کا زمانہ ہے۔
حصہ سوم میں خودمختار حکمرانوں اور خاندانِ مرابطین (یعنی یوسف بن تاشفین کے خاندان) اور موحدین یعنی عبدالمؤمن اور اس کے احفاد کے حالات، مسلمانوں کی عیسائیوں کے ساتھ محاربات، مسلمانوں کا ملک اندلس سے اخراج ، اور اسلامی اندلس کے مجمل حالات کا تذکرہ ہے۔ یعنی اس حصہ میں مسلمانوں کے عبرت آمیز تنزل کی دلخراش داستان ہے۔
چوتھے حصے میں اندلس کے مشہور علماء، حکماء، اور محدثین و مورخین کے حالات اور اُن کی تصانیف کا تعارف ہے۔ یہ حصے علماء کرام اور طلباء کے لئے بہت کارآمد ہے۔
مختصر یہ کہ نواب ذوالقدر جنگ بہادر کی یہ کتاب اسلامی اندلس کی نہایت مرتب اور مکمل تاریخ ہے۔ نیز مصنف کا طرزِ نگارش ادیبانہ ہے جس سے کتاب کا لطف دوبالا ہوجاتا ہے۔ اگر آپ اس کتاب کو غور سے پڑھیں گے تو مسلمانوں کی حیرت انگیز ترقی کے اسباب اور عبرت آمیز تنزل کی وجوہات بخوبی سمجھ جائیں گے۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں