آزادی کے بعد اردو سفرنامہ از سعید احمد 44

آزادی کے بعد اردو سفرنامہ از سعید احمد

آزادی کے بعد اردو سفرنامہ، تنقید و تجزیہ از سعید احمد

زیرنظر کتاب “آزادی کے بعد اردو سفرنامہ، تنقید و تجزیہ” جناب سیعداحمد صاحب کی تحریر ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے اردو سفرنامہ کی تاریخ کا احاطہ کیا ہے اور آزادی کے بعد کے اہم سفر ناموں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ سفرنامہ وہ معتبر و دقیع صنفِ نثر ہے جس میں قاری کی دلچسپی کے تمام وسائل موجود ہوتے ہیں۔ اس میں افسانوی انداز اور بیان بھی ہوتا ہے۔ تحیرخیزی اور پُراسراریت بھی ہوتی ہے۔ تاریخ کی صداقت بھی ہوتی ہے۔ مکتوب، ڈائری، روزنامچے اور خودنوشت کی رومانیت بھی۔ ا س میں ماضی کا دھندلکہ بھی ہوتا ہے اور حال کی تابناکی بھی۔ اس جمالیاتی تلذذ بھی ہوتا ہے اور امرِ واقعہ کا بیان بھی۔ یہی وجہ ہے کہ اسے تحریر کرنے والے کی بصیرت و بصارت کا پیمانہ تسلیم کیا جاتا ہے۔
اردو میں سفرنامے خاصی تعداد میں لکھے گئے ہیں۔ مگر تحقیقی و تنقیدی تناظر میں اس پر اس طرح کا کام نہیں ہوا جس طرح دوسری اصنافِ نثر پر ہوا ہے۔ اس لحاظ سے سعیداحمد کی یہ کوشش لائقِ ستائش ہے۔ انہوں اس کی تحقیق بڑی جانفشانی سے کی ہے۔ دوسروں کے لکھے پر انحصار کرکے اور علطیوں کے امکانات سے بچتے ہوئے ،مذکورہ سفرناموں تک خود پہنچے ہیں اور اس پر ہوئے مباحث کو جامعیت کے ساتھ سمیٹا ہے۔
سعید احمد جو بھی کام کرتے ہیں نہانیت لگن اور انہماک کے ساتھ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں سفرنامے کے مفہوم اور اس کے فن پر بھی گفتگو کی ہے۔ اس کی تاریخ کا بھی احاطہ کیا ہے اور آزادی کے بعد کے اہم سفر ناموں کا تنقیدی جائزہ بھی لیا ہے۔ اس کے اس کام سے ترتیب کا سلیقہ اور تقیق کی سمجھ جھلکتی ہے۔ ان کے اند ر علمی معاملات میں، کسی مقام پر مطمئن یا قانع نہ ہونے کا اور خوب سے خوب تر کی جستجو کا جو جذبہ پایا جاتا ہے اس سے امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں کوئی ار “خوب تر” چیز پیش کریں گے۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں