ٹیپوسلطان ناول از خان آصف 245

ٹیپوسلطان ناول از خان آصف

ٹیپوسلطان تاریخی ناول تحریر خان آصف

زیر نظر کتاب ایک تاریخی ناول ہے جو ریاستِ میسور کے حکمران سلطان ٹیپو شہیدکے متعلق ہے، جس میں اس بہادر حکمران کی حالاتِ زندگی نہایت دلچسپ اور جامع انداز میں بیان کی گئیں ہیں۔
جنوبی ایشیا ہمیشہ سے بیرونی طاقتوں کی نظروں کا محور رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس خطے کو جن وسائل سے مالامال کیا ہے، ان پر ہمیشہ انگریزوں نے حریصانہ نظریں رکھیں اور اسی دولت کی کشش نے اُن کو آج تک اس خطے سے الگ نہیں ہونے دیا۔ انگریزوں نے مغل شہنشاہ جہانگیر کے جوتوں کو بوسے دئیے اور فرنگیوں کے لئے بحری تجارت کا حکم نامہ حاصل کرلیا۔ پھر ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجروں نے سود در سود کا کاروبار شروع کیا اور مسلمانوں کی صفوں میں غدار پیدا کئے۔
پھر چشمِ فلک نے وہ عبرت ناک منظر دیکھا کہ آخری مغل تاجدار، بہادرشاہ ظفر کو اپنے ہی ملک میں دفن ہونے کے لئے دوگز زمیں بھی نہ مل سکی۔ برصغیر کے مسلمان اپنے کاندھوں پر آٹھ سو سالہ اقتدار کی لاش اُٹھائے پھر رہے تھے مگر ان کے لئے کہیں جائے پناہ نہیں تھی انگریزوں نے جس طرح برصغیر پاک و ہند میں اپنے قدم جمائے، اُن کے اثراتِ بد سے ہم آج تک محفوظ نہیں ہیں۔ آج بھی ہم اُن کے محکوم و معتوب نظر آتے ہیں۔ مسلمانوں کی سب سے بڑی بدقسمتی یہی تھی کہ وہ اُن کے ارادوں کو نہ سمجھ سکے۔ انگریزوں نے جتنی بھی جنگیں لڑیں، وہ شجاعت و ہنرمندی اور سیاسی تدبر سے نہیں بلکہ اپنی فطری عیاری و مکاری سے لڑیں۔ وہ بس ایک ہی ہنر جانتے تھے کہ وطن فروشوں کو کتنی قیمت میں خریدا جا سکتا ہے۔
انہوں نے تاریخ کے کسی موڑ پر بھی ہمت و بہادری کے جوہر نہیں دکھائے بلکہ انسان کی فطری کمزوریوں کو پرکھتے ہوئے اپنے آزمودہ نفسیاتی ہتھیاروں سے مسلمانوں کے دلوں اور حوصلوں پر کاری ضربیں لگائیں، ان کے ایمان کو زنگ آلود کیا۔ مزید غضب یہ کہ مسلمانوں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا کرکے پسندیدہ نتائج حاصل کئے۔ آج بھی ان کا یہ خوفناک کھیل جاری ہے۔ ایک ارب سے زیادہ ہونے کے باوجود ہم ذلت و خواری کے غاروں میں رہ رہے ہیں۔ فرقوں میں بٹی ہوئی قوم نسلی تعصب کی بنا پر ایک دوسرے کی گردنیں کاٹ رہی ہے۔ اہلِ ایمان کو خون پانی کی طرح سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ یعنی قاتل بھی ہم ہیں اور مقتول بھی ہم ہی ہیں۔ ایک وحشت ناک غذاب ہے جو ہمارے سروں پر مسلط ہے۔
آج بھی فرنگیوں کی وہی بساطِ سیاست ہے، وہی مہرے ہیں، وہی چالیں ہیں۔ بس صرف نام اور چہرے بدل گئے ہیں۔ بت پرستوں سے کیا گلہ کریں اور دشمنانِ اسلام سے کیا شکایت کہ وہ تو اپنے مشن پر ہیں۔ مگر آپ ان منافقین کو کیا کہیں گے جو مسلمانوں کی صفوں میں شامل ہیں اور عجیب عجیب انداز سے اسلام کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ نہ جانے کتنے میر صادق اور میر جعفر آج بھی آستینوں میں چھُپ کر ملتِ اسلامیہ کو ڈس رہے ہیں۔ مزید ستم ظریفی یہ کہ اہلِ ایمان کے نظریات پر حملے کئے جارہے ہیں۔ مکروہ ذہنوں میں سوال اُٹھ رہے ہیں کہ “اسلامی نظریہ حیات” قابلِ عمل ہے بھی یا نہیں۔ اسلاف کو الزام تراشی کا ہدف بنایا جارہا ہے ۔ مجاہدینِ اسلام سلطان صلاح الدین ایوبی، محمود غزنوی، محمد بن قاسم اور ٹیپو سلطان کے کارناموں کو نفرت اور انتہا پسندی سے تعبیر کیا جارہاہے۔ اسلامی نصاب کو بوسیدہ کہا جارہا ہے۔ ” دوقومی نظریہ” روشن خیال مسلمانوں کو کھٹک رہا ہے۔ جدوجہدِ آزادی پر شکوک و شبہات کا اظہار ہورہا ہے۔ بزرگوں کی بے مثال قربانیوں پر اُنگلیاں اُٹھ رہی ہیں۔ لفظ “جہاد” جس سے دشمنانِ اسلام ہمیشہ سے خوف زدہ تھے، ہیں اور رہیں گے، آج یہ لفظ شدت پسندی کے زمرے میں شمار کیا جارہا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انتہا پسندی کی تعبیر و تشریح کرتے وقت اسے اسلام اور مسلمانوں سے کیوں منسوب کیا جاتا ہے؟ جبکہ اہلِ زمین جانتے ہیں کہ اس وقت سب سے زیادہ ظلم و ستم کا شکار اہلِ اسلام ہی ہیں۔ گردشِ حالات میں سب سے بڑے معتوب بھی ہم ہی ہیں۔ سہل پسندی اور بے وفائی کا زہر ہمارے جسم میں اس طرح سرایت کرگیا ہےکہ ہم اپنے آپ کو بھی نہیں پہچانتے۔
بہرکیف یہ داستانِ الم تو بہت طویل ہے۔ آئیے بات کرتے ہیں زیرِ نظر ناول ” ٹیپوسلطان” کی۔ خان آصف صاحب نے پہلے یہ ناول 1992ء میں اخبارِ جہاں کے لئے لکھا۔ اُس زمانے میں یہ ناول بہت مقبول ہوا۔ بعد میں پاکستان ٹیلی ویژن اس ناول پر ڈرامہ سیریل بھی ٹیلی کاسٹ کیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ٹیپو ایک جانباز والی اور صاحبِ کردار شخص تھا۔ حقیقاً مصنف نے ٹیپو سلطان پر لکھ کر ایک قرض اُتارا۔ اور سب سے بڑھ کر کہ کہ انہوں نے تاریخی ناول نگاری کو بھی زنگ آلود اور بوسیدہ زنجیروں سے آزاد کرکے ایک انقلابی رنگ دیا۔ کیونکہ تاریخ، انقلاب ہی کا دوسرا نام ہے۔
سلطان ٹیپو عزم و استقلال کا پیکر تھا۔ وہ نہ صرف ایک بہادر حکمران تھا بلکہ اعلیٰ کرداری میں بھی بے مثال تھا۔ وہ بہترین منتظم تھا۔ اس کی انتظامی اصلاحات سے رعایا خوشحال تھی۔ وہ ایک ایسا شفیق انسان تھا کہ اس کے دورِ حکومت میں غیر مسلموں کو تمام مذہبی، سماجی اور سیاسی حقوق حاصل تھے، اُن کی جان و مال اور عزت و آبرو محفوظ تھی۔ مساوات کا دور دورہ تھا۔ وہ ایک عظیم باپ کا عظیم بیٹا تھا۔ اُس نے شیروں کی طرح زندگی گزاری۔ مگر اُن مردِ حق کی بدقسمتی تھی کہ اپنوں نے ہی اس کے پیٹھ میں خنجر گھونپا۔ اُس کو میدانِ کارزار میں تنہا چھوڑا۔ یہ اُسی کے خون کی سزا ہے کہ آج تک قوم و ملت شرم ناک غلامی پر رضامند ہے ۔ اور آج بھی ان ہی غداروں کی نسل، مملکتِ خداداد کی جڑی کھوکھلی کرنے میں مصروف ہے۔
سلطان ٹیپو ایک مردِ آہن تھا، جس نے طاغوتی قوتوں کے آگے سر جھکانے کے بجائے شہادت کو ترجیح دی۔خود ٹیپو سلطان کے اپنے تاریخی الفاظ تھے ” مومن کا مقصودِ حیات اول و آخر جہاد ہے۔ جن لوگوں نے جہاد ترک کیا ، وہ دشمنوں کی خوراک بن گئے۔ زندگی کی محبت نے انہیں بزدل و ناکارہ بنا دیا اور پھر صفحہ ہستی سے مٹا دئیے گئے۔ جذبہ جہاد اور اپنی صفوں میں مکمل اتحاد ہی اہلِ ایمان کی سب سے بڑی سیاسی قوت ہے۔ ”

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں