محاضراتِ فقہ از ڈاکٹر محموداحمدغازی 746

محاضراتِ فقہ از ڈاکٹر محموداحمدغازی

محاضراتِ فقہ از ڈاکٹر محموداحمدغازی

زیر نظر کتاب فقہ اسلامی کی تاریخ، تدوین اور تجدید کے موضوع پر بارہ دروس کا مجموعہ ہے۔ سلسلہ محاضرات کی یہ تیسری کڑی قارئین کے خدمت میں پیش کی جاتی ہے۔ اس سلسلہ کی پہلی دو جلدیں ” محاضراتِ قرآنی” اور ” محاضراتِ حدیث” کے عنوان سے پیش کی جاچکی ہیں۔
زیر نظر جلد فقہ اسلامی کے ایک عمومی تعارف پر مشتمل ہے۔ جس میں فقہ اسلامی کے چند اہم پہلوؤں کو بارہ عنوانات کے تحت سمونے کی کوشش کی گئی ہے۔ فقہ اسلامی ایک بحرِ ناپیدا کنار ہے ، جس کی وسعتوں کو کسی ایک جلد تو کیا درجنوں جلدوں میں سمیٹنا بھی مشکل ہے۔ تاہم یہ کوشش کی گئی ہے کہ فقہ اسلامی کے اہم مضامین ، بنیادی مباحث، اساسی تصورات اور ضروری پہلوؤں کو آسان اور سلیس زبان میں جدید تعلیم یافتہ حضرات کی خدمت میں پیش کیا جائے۔
اردو دان قارئین میں فقہ اسلامی سے دلچسپی رکھنے اور اعتناء کرنے والے لوگوں کا تعلق عموماً تین قسم کے حضرات سے ہوتاہے۔ ان میں بڑی تعداد ان حضرات کی ہے جن کا تعلق قانون اور وکالت کے شعبے سے ہے۔ جن کو اپنے روز مرہ فرائض کی ابجام دہی کے دوران بہت سے معاملات کے بارے میں فقہ اسلامی کا موقف جاننے کی ضرورت پیش آتی رہتی ہے۔ فقہ اسلامی پر جو کتابیں اردو یا انگریزی زبان میں دستیاب ہیں وہ عموماً اس ضرورت کو کماحقہ پورا نہیں کرتیں۔ اردو زبان میں دستیاب کتب کی بڑی تعداد عربی سے ترجمہ شدہ ہیں۔ ترجموں کی کمزوری اور نارسائی سے قطع نظر یہ کتابیں ایک جدید تعلیم یافتہ ماہر قانون کے سوالات کا جواب اس کے مانوس اسلوب اور محاورہ میں فراہم نہیں کرتیں۔ عربی کی قدیم کتابیں جن کی علمی اہمیت کا کسی حد تک اندازہ زیر نظر کتاب کے مطالعہ سے ہوسکے گا، ایسے حضرات کے لئے عموماً ناکافی بلکہ بعض اوقات غیر مفید ثابت ہوتی ہیں جو اسلامی علوم میں تخصص نہ رکھتے ہوں اور فقہ اسلامی کے ساسی تصورات سے پوری طرح واقف نہ ہوں۔ مزید براں عربی کی قدیم کتبِ فقہ کے مخاطبین وہ فقہاء تھے جو اپنے اپنے زمانے میں اصحابِ اجتہاد و افتاء رہ چکے تھے۔ وہ اسلامی علوم کے تخصص، فقہ اسلامی کے اساسی تصورات اور بنیادی مباحث سے بخوبی آشنا اور اس بحر ناپیدا کنار کے دیرینہ شناور تھے۔ ان کو فقہ اسلامی کے کلیات و اساسات کی نہیں عموماً جزئیات کی ضرورت پڑتی تھیں۔ اسلئے یہ کتابیں اکثر و بیشتر انہی کی ضرورت کو سامنے رکھ کر لکھی گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ فقہ اسلامی کی بیشتر کتابوں کا زور فقہی جزئیات پر ہی رہتا ہے، کلیات سے بحث کرنے کی ان میں نہ گنجائش ہوتی ہے نہ ضرورت۔
مزید برآں کسی بھی علم و فن کی طرح فقہ اور اصولِ فقہ کے کلیات کو بیان کرنے کا انداز اور اسلوب بھی ہر زمانے میں بدلتا رہتا ہے۔ ایک زمانہ تھا ( مثلاً ائمہ مجتہدین کا زمانہ) جب ان کلیات کو خالص مذہبی عقائد اور تعلیمات کی زبان اور انداز میں بیان کیا جاتا تھا۔ چناچہ امام شعفی اور امام محمد بن شیبائی اور ان جیسے دوسرے فقہا کی تحریروں میں شریعت کے کلیات پر بحث کرنے کا ایک خاض انداز پایا جاتا تھا۔ پھر جلد ہی ایک دور ایسا آیا جب فقہی اور اصولی مباحث کو منطق اور فلسفہ کے اسلوب میں بیان کیا جانے لگا۔ اس اسلوب کا اعلیٰ ترین نمونہ امام غزالیؒ اور امام رازی ؒ کی تصنیفات میں نظر آتا ہے۔ یہ اسلوب متقدین کے اسلوب سے بالکل مختلف ہے۔
دورِ جدید میں مغرب کے تصورات اور مباحث نے فقہ اسلامی کے مباحث اور اندازِ گفتگو پر گہرا اثر ڈالا۔ آج عرب دنیا میں فقہ اسلامی پر جو کتابیں لکھی جارہی ہیں ان میں خاصا بڑا حصہ ان کتابوں کا ہے جو مغربی قوانین کے اسلوب اور تصورات کے مطابق لکھی جارہی ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو زبان میں بھی اس نئے اسلوب کے مطابق کتابیں تیار کی جائیں، تاکہ قانون اور وکالت پیشہ حضرات زیادہ بہتر اور موثر انداز میں فقہ اسلامی کے موقف کو سمجھ سکیں۔
فقہ اسلامی سے دلچسپی رکھنے والے حضرات میں دوسری قسم وہ علمائے کرام ہیں جو فقہ یا افتاء کی زمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔ یوں تو ان حضرات کی ضرورت کی تکمیل کا سامان قدیم کتابوں اور امہات کتب سے ہوجاتا ہے۔ لیکن ایک حد تک ان حضرات کو بھی اس کی ضرورت ہے کہ ان کے لئے فقہ اسلامی کی مضامین کو نئے انداز سے پیش کیا جائے۔ ان اہلِ علم کے لئے یہ مناسب ہوگا کہ وہ فقہ اسلامی پر لکھی جانے والی معاصر تحریروں سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ نئے اسلوب کو اپنانے میں بھی کسی تامل اور تردد کا مظاہرہ نہ کریں۔ یوں اُن کو فقہ اسلامی کا موقف بیان کرنے میں بھی مدد ملے گی، اور فقہ اسلامی کے اس نئے دور سے مانوس ہونے میں آسانی بھی پیدا ہوگی۔
فقہ اسلامی سے دلچسپی رکھنے والے خضرات کی تیسری قسم یونیورسٹیوں اور جدید تعلیمی اداروں سے وابستہ یا ان سے فارع التحصیل وہ لوگ ہیں جنہوں نے فقہ اسلامی کا ایک عمومی اور سرسری سا مطالعہ کیا ہے اور زیادہ مفصل انداز میں فقہ اسلامی کے موقف کو جاننا چاہتے ہیں۔ ایسے حضرات کے لئے اردو زبان میں ایسی کتابوں کی تیاری ازحد ضروری ہے جس میں ان کی فکری پس منظر اور اسلوب و محاورہ کے مطابق فقہ اسلامی کا موقف مستند ترین مآخذ کی مدد سے بیان کیا گیا ہے۔
آج فقہ اسلامی کے بارے میں جو غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں ان کا ایک بڑا سبب ایسے لٹریچر کی دستیابی بھی ہے جس سے یہ تینوں قسم کے حضرات استفادہ کرسکیں اور ایک موثر انداز میں فقہ کا موقف بیان کرسکیں۔ زیر نظر کتاب اسی مقصد کو حاصل کرنے کی ایک حقیر سی کوشش ہے۔ مجھ امید ہے کہ یہ کتاب نہ صرف فقہ اسلامی کے طلبہ ، وکلا اور قانون دان حضرات کے لئے مفید اور دلچسپ ثابت ہوگی بلکہ عام تعلیم یافتہ حضرات بھی اس کے ذریعے بہت سے معاملات میں فقہ اسلامی کے موقف کو اس کے صحیح پس منظر میں سمجھ سکیں گے اور دورِ جدید میں اس کی معنویت کا اندازہ کرسکیں گے۔
محاضراتِ قرآنی اور محاضرات حدیث کی طرح ان محاضرات کی ابتدائی اور اولین مخاطب بھی وہ مدرساتِ قرآن تھیں جو راولپنڈی اور اسلام آباد میں درسِ قرآن کے حلقوں سے وابستہ ہیں۔ ان محاضرات میں بھی قابلِ احترام خواتین کی ایک بڑی تعداد نے حصہ لیا ااور مقرر کی حوصلہ افزائی کی۔ یہ خطبات مختصر نوٹس اور اشاروں کو سامنے رکھ کر زبانی ہی دئے گئے تھے اور بعد میں آڈیو ٹریک سے کتابی شکل میں منتقل کردیا گیا۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں