سُلطان الشعراء تحقیق و تحریر شمیم نوید 372

سُلطان الشعراءحضرت امیر خسرو از شمیم نوید

سُلطان الشعراء تحقیق و تحریر: شمیم نوید. صدیوں کو اپنے کمالات کے سحر کا اسیر بنانے والے حضرت امیر خسروؒ کی سرگزشت۔

باکمالوں میں ایسا باکمال پھر چشمِ فلک نے کبھی نہیں دیکھا۔ گو اُسے اس جہانِ فانی سے رُخصت ہوئے تقریباً سات سو برس کا طویل عرصہ گُزر چکا ہے مگر ابھی تک ایک بھی ایسا جامع کمالات تاریخ کے صفحات میں نظر نہیں آتا جسے اُس کا ہم پلّہ قرار دیا جاسکے۔ شعرو ادب کے میدان میں اُس کی فتوحات کا شہرہ ہندوستان سے نکل کر ساری دنیا میں پھیل گیا۔ ایرانی جو اپنی زبان دانی کے سامنے کسی غیرایرانی کو کبھی کوئی اہمیت ہی نہیں دیتے تھے۔ اُس کی فارسی دانی کے معترف ہوگئے۔ ابتداء میں اُردو زبان کے گیسو سنوارنے والوں میں اُسی کا نام سرِ فہرست ہے۔ فنِ موسیقی میں اُس کے کارناموں پر آج تک اہلِ علم حیران ہیں۔ اس شعبے میں اُس کے اجتہاد و ایجادات نے اُن ہندو پنڈتوں کو بھی اپنے سامنے سرجُھکانے پر مجبور کردیا جو اپنے مذہبی تعصّب کے سبب علمِ موسیقی کے اجارہ دار بنے بیٹھے تھے اور کسی غیر ہندو موسیقار کو کبھی قابلِ اعتنا ہی نہیں سمجھتے تھے۔ تاریخ، تصوف، فلسفہ، منطق، فنونِ سپاہ گری، العرض بے شمار جہتوں میں پھیلی ہوئی اس کی مہارت اہلِ علم و ھُنر کے لئے آج بھی تحقیق کے میدان میں نت نئے دروازے کھول رہی ہے۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں