سوات نامہ د خوشحال خان خٹک 443

سوات نامہ د خوشحال خان خٹک

کتاب “سوات نامہ” مولف خوشحال خان خٹک

سوات نامہ خوشحال خان خٹک کا سفرنامہ ہے جس اُنہوں نے خوبصورت وادی سوات کے سفر کی تفصیل بیان کی ہے

پشتون جنگجو ہیرو٫ شاعر اور فلسفی خوشحال خان، خٹک قببیلے کے سردار تھے. مغلوں کے خلاف کئی لڑائیاں لڑیں. پٹھانوں کے یوسفزئ قبیلہ کے ساتھ بھی جنگ و جدل کا میدان گرم رکھا. مغلوں کے خلاف یوسفزیوں کو ساتھ ملانے کی کوششیں بھی کیں.اس مقصد کے لیے سوات بھی گئے اور وہاں چند مہینے قیام کیا. اس سفر سے پشتو ادب کو سوات نامہ کی شکل میں ایک کلاسیک کتاب مل گئی۔ ۔ جس میں اُنہوں نے وادئ سوات کے خوبصورتی، یہاں کے لوگوں ، اُن کی شخصیت ، رہن سہن، روایات، زبان اور تہذیب و تمدن کے بارے میں اپنے مشاہدات قلم بند کئے ہیں۔
خوشحال خان اکبر بادشاہ کے زمانے میں سال 1613 ء میں نوشہرہ کے علاقے اکوڑہ خٹک میں پیدا ہوئے۔ اُ ن کے والد صاحب شہباز خان قبیلہ خٹک کا سردار اور مغلوں کی جانب سے علاقے کا جاگیردار یعنی خان تھا اور یہ جاگیر اُن کو باپ دادا سے ورثے میں ملی تھی۔ خوشحال خان تلواروں کے سائے میں پیدا ہوئے اور تلواروں کے سائے میں بڑے ہوئے۔ ان کی قسمت میں ایک بہت بڑا شاعر، ادیب اور عالم بننا لکھا گیا تھا۔ ان کی علم کا زیادہ تر حصہ ذاتی مطالعے، مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہوا تھا۔ علم کے شوق نے اُس سے اتنی ساری کتابوں کا مطالعہ کرایا کہ بعد میں انہوں نے عربی فقہ کی مشہور اور مثتند کتاب الہدایہ کا پشتو زبان میں ترجمہ کیا اور اسی وجہ سے ان کا شمار علما میں ہوتا ہے۔
پشتو ادب میں خوشحال خان خٹک سب سے زیادہ ہمہ گیر شخصیت ہیں۔ خوشحال خان شاعر بھی تھے، ادیب بھی تھے، امیر بھی تھے اور فقیر بھی، انہیں تلوار اور ڈھال سے بھی عشق تھا اور سر و ساز کے ساتھ بھی لگاؤ تھا۔ وہ کتابوں کے صفحات پر بھی خطاطی کرتے تھے اور شکار کے میدان میں بھی ثانی نہیں رکھتے تھے۔ غرض زندگی کا کوئی ایسا رخ نہیں ہے جس میں انہوں نے طبع آزمائی نہیں کی ہو اور ادب کی کوئی ایسی شاخ نہیں ہے جس میں انہوں نے پشتو زبان کو دوسری زبانوں کے ساتھ ہم پلہ کھڑا نہیں کیا ہو بلکہ سچ تو یہ ہے کہ پشتو زبان پر خوشحال بابا کا جتنا احسان ہے اتنا کسی دوسرے شخص کا نہیں ہے

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں