385

خطیبِ اعظم سید عطاء اللہ شاہ بخاری از ڈاکٹرساجد امجد

خطیبِ اعظم سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سرگزشت
تحریر و تحقیق : ڈاکٹر ساجد امجد

تحریکِ آزادی کی ابتدائی ہوئی تو برِ صغیر پاک و ہند میں ایسی نادرِ روزگار شخصیات نمودار ہوئیں کہ دُنیا حیران رہ گئی۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ انیسویں صدی کے آخری پچاس سال اور بیسوی صدی کا ابتدائی حصہ غیر معمولی افراد کی پیدائش کا عرصہ تھا۔ 1891ء میں ایسی ہی ایک غیرمعمولی ہستی نے جنم لیا۔ وہ جرات و ہمت کا پہاڑ، علم و ادب کا سمندر اور شعلہ نوائی میں بے مثل تھے۔ سپاہِ آزادی کے ایک سالار کی حیثیت سے ان کی فتوحات قابلِ قدر تھیں۔ ملک و ملت کے دکھ درد کا سچا جذبہ ان کے دل میں موجزن تھا۔ اس راہ پر چلتے ہوئے انہوں نے کسی ذاتی یا دُنیاوی نفع و نقصان کو کبھی سامنے نہیں رکھا۔ حقیقی معنوں میں ساری زندگی مجاہدانہ زہد و تقویٰ کے ساتھ گزاردی۔ جنگِ آزادی میں اپنی شعلہ نوائی سے نئی روح پھونکنے والے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سرگزشت۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں