بیسویں صدی کے بیس قائد 151

بیسویں صدی کے بیس قائد از سینیٹر سید سجاد بخاری

بیسویں صدی کے بیس قائد از سینیٹر سید سجاد بخاری

بیسویں صدی کو بجا طور پر قائدین کی صدی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اس صدی کے دوران لاتعداد قومیں غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزادی کی نعمت سے ہمکنار ہوئیں۔ قوموں کی آزادی کی تحریکوں نے لاتعداد قائدین کو متعارف کروایا اور تاریخ کے اوراق میں ان کے مقام و مرتبہ کو تعین کیا۔ اس صدی میں انتہائی اہم سیاسی اور جغرافیائی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس صدی نے دو عالمی جنگیں دیکھیں جن میں دنیا کی تمام مملکتیں اور قومیں کسی نہ کسی شکل میں حصہ دار بنیں اور اس کے اثرات کی زد میں آئیں۔ پہلی جنگِ عظیم 28 جولائی1914ء کو شروع ہوئی اور 11 نومبر 1918ء تک یعنی چار سال تین ماہ اور 14 دن جاری رہی۔ اس جنگ میں 40 سے زائد ممالک شریک تھے۔ اس جنگ کے نتیجہ میں ایک کروڑ ساٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ دو کروڑ دس لاکھ افراد زخمی ہوئے۔ دوسری عالمی جنگ کا آغاز یکم ستمبر 1939ء کو ہوا۔ یہ جنگ چھ سال ایک دن جاری رہنے کے بعد 2 ستمبر 1945ء کو اختتام پذیر ہوئی۔ اس جنگ میں 61 ممالک براہ راست ملوث تھے جنہوں نے چھ کروڑ سے زائد انسانوں کو موت کی نیند سلا دیا۔ دونوں عالمی جنگوں کے دوران کچھ قومیں غلامی کا طوق اتارنے میں کامیاب ہوگئیں اور کچھ قومیں آزادی سے محروم ہوکر غلامی کی زنجیروں میں جھکڑی گئیں۔ غلامی سے نجات کی خواہش نے حریت پسندی کو جنم دیا اور حریت پسندوں نے نئی تاریخ رقم کردی۔ ان حریت پسندوں میں کچھ تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی قوم کو غیر ملکی سامراج کے تسلط سے نجات دلائی اور چند ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے ہی ملک کی سامراجی اور عوام دشمن قوتوں کو شکست دے کر اپنے عوام کو ایک نئی زندگی سے روشناس کروایا۔
زیرِ نظر کتاب میں جن 20 قائدین کے حالات بیان کئے گئے ہیں اُن میں بانی پاکستان قائد اعظم محمدعلی جناح، ہندوستان کے مہاتما گاندھی، فران کی آزادی کے ہیرو چارلس ڈیگال، جرمنی کے مقبول لیڈر اڈولف ہٹلر، الجزائر کے حریت پسند صدر احمد بن بیلا، انڈونیشیا کے عظیم لیڈر احمد سوئیکارنو، اسلامی جمہوریہ ایران کے انقلابی اور روحانی لیڈر امام خمینی، جدید مصر کے بانی جمال عبدالناصر، سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز، جدید ترکی کے بانی کمال اتاترک، فلسطین کے انقلابی لیڈر یاسر عرفات، امریکہ کی تاریخ میں چار مرتبہ صدارتی انتخاب جیت کر نئی تاریخ رقم کرنے والے لیڈر فرینکلن روز ویلٹ، کیوبا کی آزادی کے ہیرو فیڈل کاسترو، پہلے آزاد افریقی ملک گھانا کے منفر د لیڈر کم ال سنگ، جنوبی افریقہ کے عوام کو زنجیروں سے آزاد کرنے والے لاثانی لیڈر نیلن منڈیلا، دنیا کی دوسری سپر پاور سوویت یونین کے بانی ولاڈیمیر لینن، دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کے دوران برطانوں قوم کے نجات دہندہ وزیرِ اعظیم ونسٹن چرچل اور ویتنام کی آزادی کے ہیرو عظیم سوشلسٹ انقلابی لیڈر ہوچی منہ شامل ہیں۔ تاہم بیسویں صدی میں ایسے معتبر لیڈرز بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کی اپنے ملک و قوم کے لئے عظیم خدمات اور قائدانہ صلاحیتوں کا ذکر دنیا کی تاریخ میں سنہرے حروف میں درج ہے۔ ایسے قائدین کا ذکر تفصیل کے ساتھ کسی ایک کتاب میں کرنا ممکن نہیں بلکہ ان قائدین کا مقام و مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ ان کی زندگی پر پہلے ہی کئی کتابیں لکھی اور شائع کی جاچکی ہیں۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں