بت شکن ناول از خان آصف 245

بت شکن ناول از خان آصف

بت شکن تاریخی ناول از خان آصف

زیر نظر ناول غزنی کے مشہور مسلمان حکمران اور عظیم فاتح “محمود غزنوٰی” کی داستان حیات ہے.
بخارہ کے “غلام بازار” میں بکنے والے غلام زادے سبکتگین کو یہ علم بھی نہیں تھا کہ ربِ کریم نے اُس کی تقدیر میں غزنی کی بادشاہت لکھی تھی۔ تو پھر کون تھا جو لوحِ محفوظ پر رقم اس عبارت کو مٹا سکتا۔ محمود غزنوی اُسی غلام زادے کا بیٹا تھا اور جس کو اللہ نے “بت شکن” کے اعزازِ اعلیٰ سے نوازا۔
اگرچہ پروردگارِ عالم نے “محمود” کی تقدیر میں عظیم الشان فتوحات لکھیں اور اس مردِ جری نے غزنی سے لے کر ہندوستان تک کامیابی کے جھنڈے گاڑ دئیے۔ مگر “قلعہ سومنات” کی فتح اس کے کارناموں میں سب سے بڑا کارنامہ تھا۔ محمود غزنوی اور اس کے سرفروشوں نے جس جرات و استقامت کا مظاہرہ کیا، اس کی مثال نہیں ملتی۔ اس نے صرف “سومنات” کے بت کو ہی پاش پاش نہیں کیا بلکہ اہلِ ہند کے سب سے قدیم ترین بت ” جگ سوم” کو بھی اپنے قدموں تلے روند ڈالا۔ اللہ نے اس بت شکن کی سرزمینِ کفر میں دستگیری فرمائی اور بت پرستوں پر مجاہدینِ اسلام کو غلبہ و اختیار عطا فرمایا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کافر، محمود غزنوی کا نام سن کر خوف سے کانپتے تھے۔ تو پھرکیا میرٹھ، متھرا، کالنجر، گوالیار، کیا اجمیر اور کیا گجرات ہر طرف اہلِ ایمان کی شجاعتوں و عظمتوں کی داستانیں بکھری ہوئی تھیں۔
اسلام کی لازوال روشنی سے دیارِ کفر کو منور کرنے والے بت شکن نے جب سومنات کو ضربِ لاالٰہ سے ریزہ ریزہ کردیا تو زمین و آسمان سے صرف کلمہ شہادت کی صدائیں بلند ہورہی تھیں۔ اور اس کے تاریخی الفاظ اہلِ کفر کی سماعتوں میں گونج رہے تھے۔ “ہم اہلِ ایمان ، بت فروش نہیں، بت شکن ہیں۔”

اپنا تبصرہ بھیجیں