کتاب: بلوچ کیس (دل کی آنکھ سے)
مصنف: خورشید مستوئی
تعارف
بلوچ کیس (دل کی آنکھ سے) بلوچستان کے سیاسی، سماجی اور قومی مسائل پر مبنی مضامین اور کالموں کا ایک اہم مجموعہ ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے بلوچ عوام کے احساسِ محرومی، وفاق اور بلوچستان کے تعلقات، قومی شناخت، سیاسی کشمکش، سماجی ناانصافی اور استحصالی رویّوں جیسے موضوعات کو ایک حساس، مدلل اور انسان دوست نقطۂ نظر سے زیرِ بحث لایا ہے۔ یہ تحریریں محض سیاسی تبصرے نہیں بلکہ ایک ایسے صاحبِ فکر قلم کار کے مشاہدات اور تجزیات ہیں جو اپنے عہد کے اہم ترین سوالات سے براہِ راست مکالمہ کرتا ہے۔
بعض کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ اپنے عہد کی دھڑکن، اپنے سماج کے دکھ اور اپنے لوگوں کے خوابوں کی امین بن جاتی ہیں۔بلوچ کیس (دل کی آنکھ سے) ایسی ہی ایک فکر انگیز تصنیف ہے جو بلوچستان کے سیاسی، سماجی اور تاریخی تناظر کو محض واقعات کی ترتیب کے طور پر نہیں بلکہ ایک حساس اور باشعور انسان کی داخلی بصیرت کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔
خورشید مستوئی اُن قلم کاروں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنے عہد کے پیچیدہ سوالات سے نظریں چرانے کے بجائے ان کا سامنا کیا۔ انہوں نے بلوچستان کے مسئلے کو سرکاری بیانیوں، سیاسی نعروں یا وقتی جذبات کی عینک سے نہیں دیکھا بلکہ اس کے پس منظر میں موجود محرومی، شناخت، اختیار اور انصاف کے بنیادی سوالات کو موضوع بنایا۔ ان کی تحریروں میں ایک ایسے لکھاری کی جھلک نمایاں ہوتی ہے جو اپنے لوگوں کے دکھ کو محسوس بھی کرتا ہے اور اس کی فکری تشریح بھی پیش کرتا ہے۔
یہ کتاب دراصل ان کالموں اور مضامین کا انتخاب ہے جو مختلف اوقات میں تحریر کیے گئے اور جن میں بلوچستان کی سیاست، قومی معاملات، سماجی تضادات، صحافتی منظرنامے، تعلیمی مسائل اور محکوم طبقات کی جدوجہد کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔ مصنف کی انفرادیت یہ ہے کہ وہ اختلافی اور حساس موضوعات پر بھی جذباتیت کے بجائے استدلال، مشاہدے اور تجربے کی بنیاد پر گفتگو کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک سچائی کسی مصلحت کی محتاج نہیں اور قلم کا اصل منصب طاقت کے مراکز کے بجائے انسان کے حق میں گواہی دینا ہے۔
خورشید مستوئی کی فکر میں وطن دوستی، انسان دوستی اور سماجی انصاف ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ اسی لیے ان کی تحریریں بلوچستان کے جغرافیے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ہر اس مقام تک پہنچتی ہیں جہاں محرومی، استحصال اور ناانصافی موجود ہو۔ وہ مسائل کی سطح پر نہیں رکتے بلکہ ان کے اسباب اور نتائج کا سراغ لگاتے ہیں، جس کے باعث ان کے مضامین محض صحافتی اظہار نہیں بلکہ فکری مکالمے کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔
بلوچ کیس (دل کی آنکھ سے) ایک ایسے صاحبِ فکر قلم کار کی یادگار ہے جس نے اپنے نظریات کو محض کتابی مباحث تک محدود نہیں رکھا بلکہ انہیں عملی زندگی اور سماجی شعور کا حصہ بنایا۔ یہ کتاب بلوچستان کے مسئلے کو سمجھنے والوں کے لیے اہم دستاویز ہونے کے ساتھ ساتھ اُن قارئین کے لیے بھی قابلِ مطالعہ ہے جو اپنے معاشرے کو گہرائی اور دیانت داری کے ساتھ جاننا چاہتے ہیں۔ اس کے صفحات میں ایک ایسے انسان کی آواز محفوظ ہے جو اپنے عہد سے مکالمہ کرتا رہا اور جس کی فکری بازگشت آج بھی سماجی انصاف، انسانی وقار اور سچائی کی جستجو کرنے والوں کو دعوتِ فکر دیتی ہے۔