برف کے قیدی ناول از پیئرز پال ریڈ

برف کے قیدی – عزمِ بقا کی ایک ناقابلِ فراموش داستان

برف کے قیدی* معروف برطانوی ناول نگار اور صحافی Piers Paul Read کی شہرۂ آفاق تصنیف “Alive” کا اردو ترجمہ ہے جسے اشفاق حسین نے نہایت سلیقے اور روانی کے ساتھ اردو قالب میں ڈھالا ہے۔ یہ کتاب محض ایک فضائی حادثے کی روداد نہیں بلکہ انسانی ارادے، صبر، حوصلے اور زندگی سے وابستگی کی ایسی سچی داستان ہے جو قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنی گرفت میں رکھتی ہے۔

ادب میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو حقیقت ہونے کے باوجود افسانے سے زیادہ حیران کن اور ناول سے زیادہ پراثر محسوس ہوتے ہیں۔ 1972ء میں کوہِ اینڈیز کے برف پوش سلسلوں میں پیش آنے والا یہ حادثہ بھی انہی چند واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ یوراگوئے کی رگبی ٹیم اور ان کے ساتھیوں کو لے جانے والا طیارہ برفانی چوٹیوں کے درمیان تباہ ہو گیا۔ دنیا نے انہیں مردہ سمجھ لیا، تلاش کی تمام کوششیں ترک کر دی گئیں، مگر برف، بھوک، تنہائی اور موت کے حصار میں گھرے چند افراد نے زندگی کی شمع بجھنے نہ دی۔

کتاب کا سب سے بڑا وصف یہ ہے کہ یہ انسان کی بقا کی جبلّت کو اس کی انتہائی صورت میں پیش کرتی ہے۔ ایسے حالات میں جب امید کا ہر دروازہ بند ہو چکا تھا اور مہذب دنیا سے تمام رشتے منقطع ہو گئے تھے، ان لوگوں نے زندہ رہنے کے لیے وہ فیصلے بھی کیے جن کا تصور عام حالات میں ممکن نہیں۔ یہی پہلو اس داستان کو محض حادثاتی سرگزشت کے بجائے انسانی نفسیات، اخلاقی کشمکش اور قوتِ ارادی کے ایک گہرے مطالعے میں تبدیل کر دیتا ہے۔

پیئرز پال ریڈ نے اس سانحے کے زندہ بچ جانے والوں، ان کے اہلِ خانہ اور امدادی سرگرمیوں سے وابستہ افراد سے تفصیلی ملاقاتوں اور طویل تحقیق کے بعد اس واقعے کو قلم بند کیا۔ یہی وجہ ہے کہ کتاب کے صفحات میں واقعات محض بیان نہیں ہوتے بلکہ پوری شدت کے ساتھ قاری کے احساسات میں اترتے چلے جاتے ہیں۔ برفانی ہواؤں کی سفاکی، بھوک کی اذیت، موت کا خوف اور امید کی مدھم لو—سب کچھ اس انداز سے پیش کیا گیا ہے کہ قاری خود کو اس برفانی قید کا ایک حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔

اشفاق حسین کا ترجمہ بھی خصوصی توجہ کا مستحق ہے۔ انہوں نے اصل متن کی سنجیدگی، درد اور تاثیر کو برقرار رکھتے ہوئے اسے ایسی شستہ اردو میں منتقل کیا ہے جو نہ صرف رواں ہے بلکہ ادبی ذوق رکھنے والے قارئین کے لیے بھی باعثِ کشش ہے۔

برف کے قیدی دراصل انسان کی اس ناقابلِ تسخیر قوت کا استعارہ ہے جو نامساعد ترین حالات میں بھی شکست تسلیم نہیں کرتی۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی کی خواہش کبھی کبھی برف کے بلند ترین پہاڑوں، شدید ترین بھوک اور مایوسی کی گہری ترین کھائیوں پر بھی غالب آ جاتی ہے۔ اسی لیے یہ تصنیف محض ایک حادثے کی تاریخ نہیں بلکہ انسانی عزم و استقلال کی ایک لازوال دستاویز ہے۔

Leave a Comment