ناول کا نام: آخری کوٹھی کے اسرار
مصنف: اگاتھا کرسٹی
مترجم: محمد اشفاق
“آخری کوٹھی کے اسرار” دراصل مشہور جاسوسی مصنفہ اگاتھا کرسٹی (Agatha Christie) کے ناول کا اردو ترجمہ ہے، جسے محمد اشفاق نے اردو زبان میں منتقل کیا ہے. یہ ناول ایک پراسرار کوٹھی میں پیش آنے والے اچانک قتل اور اس سے جڑے حیران کن رازوں کی کہانی ہے۔ ایک پُرسکون ماحول میں بسنے والے چند افراد اس وقت شک و شبہات کے دائرے میں آ جاتے ہیں جب ایک غیر متوقع سانحہ سب کو ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ کوٹھی کی دیواروں میں چھپے راز، باہمی تعلقات کی پیچیدگیاں اور پوشیدہ محرکات رفتہ رفتہ ایک ایسے معمہ کی صورت اختیار کر لیتے ہیں جس کا حل بظاہر ناممکن دکھائی دیتا ہے۔
اردو ادب میں سنسنی اور تجسس سے بھرپور کہانیوں کا ذکر ہو اور Agatha Christie کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ دنیا بھر میں “ملکۂ اسرار” کے لقب سے مشہور اس عظیم مصنفہ نے جرائم کی دنیا کو ایک نیا زاویہ دیا—ایسا زاویہ جہاں جسمانی قوت سے زیادہ ذہانت اور نفسیاتی بصیرت کارفرما ہوتی ہے۔
اس ناول کی سب سے بڑی کشش عظیم جاسوس ہرکول پوارو ہے، جسے پہلی بار The Mysterious Affair at Styles میں متعارف کرایا گیا۔ بلجیم سے ہجرت کر کے لندن میں آباد ہونے والا یہ منفرد جاسوس اپنے مخصوص اندازِ فکر اور غیر معمولی مشاہدے کی قوت سے مجرموں کو بے نقاب کرتا ہے۔ وہ جائے وقوعہ پر محض ظاہری شواہد پر انحصار نہیں کرتا بلکہ انسانی نفسیات کی تہوں میں اتر کر اصل مجرم تک پہنچتا ہے۔
ایم اشفاق کا رواں اور شستہ ترجمہ اس شاہکار کو اردو قارئین کے لیے نہایت دلکش بنا دیتا ہے۔ انہوں نے اصل کہانی کی سنسنی، گہرائی اور فکری لطافت کو برقرار رکھتے ہوئے اسے اردو قالب میں اس مہارت سے منتقل کیا ہے کہ قاری ابتدا سے انجام تک تجسس کے حصار میں بندھا رہتا ہے۔
آخری کوٹھی کے اسرار محض ایک قتل کی تفتیش نہیں بلکہ انسانی فطرت، لالچ، حسد اور سچ کی جستجو کی دلکش داستان ہے، جو ہر موڑ پر قاری کو چونکا دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔