کتب اور کتب خانوں کی تاریخ از اشرف علی 20

کتب اور کتب خانوں کی تاریخ از اشرف علی

کتب اور کتب خانوں کی تاریخ از اشرف علی

زیرِ نظرکتاب “کتب اور کتب خانوں کی تاریخ” اشرف علی صاحب کی تصنیف ہے جو ایک اہم تاریخی دستایوز ہے، جس میں کتاب نویسی اور لائبریریوں کی تاریخ بیان کی گئی ہے۔

انسانی تہذیب کے ارتقاء کی داستان کتاب اور کتب خانوں کے تذکرے کے بغیر مکمل نہیں ہوتی۔ اس وقت بھی جب انسان کا ذہن کاغذ اور تحریر کے تصور سے ناآشنا تھا، وہ ریت اور پتھر کی چٹانوں پر آڑی ترچی لکیریں کھینچ کر اپنا مافی الضمیر دوسروں تک پہنچانا جانتا تھا۔ بعد ازاں وہ اپنے خیالات، نظریات اور کارناموں کو مٹی کی الواح اور پیپائرس پر منتقل کرنے لگا۔ تحریروں اور دستاویزات کے ان ذخیروں کو جس جگہ محفوظ کیا گیا، وہی کتب خانے کی ابتدائی شکل تھی۔ اس طرح پہلے انفرادی یا ذاتی اور بعد میں عوامی کتب خانے وجود میں آئے۔

کتاب اور کتب خانوں کی افادیت اور اہمیت کو مہذب قوموں نے ہر دور میں تسلیم کیا ہے۔ اہلِ علم کسی ملک میں پائے جانے والے کتب خانوں کو اس ملک کی ثقافتی، تعلیمی اور صنعتی ترقی کا پیمانہ قرار دیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں لائبریری سائنس کے طلبہ کو کتاب اور کتب کاںون سے متعلق جس قدر علمی مواد کی ضرورت ہے، بدقسمتی سے ہمارے علمی مراکزمیں وہ بہت کم دستیاب ہے۔ انہی دشواریوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ کتاب تصنیف کی گئی ہے۔

زیرِ مطالعہ کتاب “کتب اور کتب خانوں کی تاریخ” نہ صرف علمِ کتابداری کے طلبہ کی تعلیمی اور نصابی ضروریات کو پورا کرتی ہے بلکہ دیگر اہلِ علم حضرات کو بھی اس موضوع پر بیش بہا معلومات فراہم کرتی ہے۔

کتاب کے مصنف جناب اشرف علی عرضہ دراز تک کتب خانہ اور محکمہ تحفظِ دستاویزات اسلام آباد میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں۔ انہوں نے اس کتاب میں نہ صرف اپنے طویل علمی تجربے کا نچوڑ سمودیا ہے بلکہ ملکی مآخذوں کے ساتھ ساتھ بیرونی ممالک کے کتب خانوں اور دستاویزی مراکز سے بھی استفادہ کیا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کتاب لائبریری سائنس کے طلبہ ، استاذہ اور عام قارئین کے لئے یکسان مفید ہوگی۔

یہاں‌سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں