Firaq Nama Khushal Khan Khattak 432

فراق نامہ از خوشحال خان خٹک

فراق نامہ خوشحال خان خٹک کے زندانی نغمے جو انہوں نے مغلوں کے قید میں نصنیف کئے.

اس میں کوئی شک نہیں کہ خوشحال خاں خٹک نے کئی نئے موضوعات ، اصناف اور افکار کو پشتو ادب میں جگہ دی ہے۔ اور اتنے خوبصورت اور ماہرانہ انداز میں ان اصناف و موضوعات کو پشتو ادب کا حصہ بنایا کہ کوئی بھی پشتو ادب کی تاریخ سے آگاہی نہ رکھنے والا شخص یہ گمان بھی نہیں کرستکا کہ یہ اصناف و موضوعات دراصل خوشحال خان سے پہلے پشتو ادب میں موجود نہیں تھے۔ ان سارے موضوعات ، اصناف اور افکار میں ایک صنف “حبسیات” کی بھی ہے۔
خوشحال خان بابا نے مغلوں کی اسیری کے دوران پشتو ادب کے “حبسیہ ادب” کی بنیاد رکھی۔ اس سے پہلے پشتو ادب کے مروجہ موضوعات و اصناف میں “حبسیات” کے آثار نہیں ملتے۔ ویسے تو خوشحال بابا نے مغلوں کی جیل میں منظوم اور منثور دنوں شکلوں میں بہت سا بہترین ادب تحلیق کیا ہے لیکن اس کتاب میں صرف اُن کی اُس حبسیہ کلام شامل کیا گیا ہے جو انہوں نے پشتونخوا، اپنے وطن اور اپنے اہل و عیال کی جدائی اور ارمان میں کہا تھا۔
ویسے تو خوشحال خان نے اس سارے عرصے میں بہت سا ادب تخلیق کیا تھا لیکن فراق نامہ اُ ن کی پہلی کتاب ہے جو رنتھنمبور کی قلعہ میں قید کی حالت میں لکھی گئی۔ فراق نامہ کتابیات سمیت 144 صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس کے علاوہ 16 صفحات پر مشتمل ہمیش خلیل کا لکھا گیا عالمانہ انداز کا مقدمہ بھی اس کتاب کی زینت ہے۔ کتاب میں 28 غزلیں اور 25 مثنویات شامل ہیں جو تقریباً 1782 اشعار یعنی 1546 مصرعے بنتے ہیں۔
این مثنوی میں رنتھنمبور کے قلعے کا ذکر ہے جب تنہائی کے ہاتھوں تنگ آکر خوشحال بابا نے پشتونخوا کے مختلف شہروں کو یاد کرکے اپنے دل کو تسلی دی ۔ اس مثنوی میں کابل، پشاور، اٹک، خٹک، سرائے اکوڑہ اور لاہور کا ذکر کیا گیا ہے۔
خوشحال خان نے ہند کے زندان میں پشتونخوا کی نہ صرف زمین، آب و ہوا، دریاؤں ، درختوں، جانوروں ، پہاڑوں ، دوشیزاؤں ، خٹکوں ، یوسفزیوں، شکار کے پرندوں کے غم میں نغمے گائے ہیں بلکہ مغل حکمرانوں کی بھی ہرزہ سرائی کی ہے جن سے اُن کی غریب الوطنی کا اندازہ ہوتا ہے۔
الغرض یہ کہ فراق نامہ خوشحال خان کے قید وبند کے حادثات کا ایک ایسا نچوڑ ہے کہ اگر ان کو یہ حادثہ پیش نہ آتا تو آج ہمارے پاس یہ عظیم کتاب موجود نہ ہوتی۔
اس پوری عرصے میں خوشحال خان خٹک نے نظم و نثر کی صورت میں بہت سا قیمتی اور مقصدی ادب تخلیق کیا جو کہ نہ صرف پشتو میں “پسِ زنداں ادب” کی بنیاد ہے بلکہ ایک قیمتی سرمایہ بھی ہے۔ اور اس ناخوشگوار واقعے کے بعد سے پشتو ادب میں مغلوں کی ظلم و ستم کی نشانی کے طور پر دو اصطلاحات ” مغلوالہ” اور رنتھنمبور” آج بھی رائج ہیںَ۔
کتاب “فراق نامہ” پاکستان ورچوئل لائبریری کے قارئین کے لئے آنلائن پرھنے اور مفت ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے دستیاب ہے. ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے ذیل میں‌موجود ڈاؤنلوڈ لنک پر کلک کریں.

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں