سفیرانِ حرام از خان آصف 211

سفیرانِ حرام از خان آصف

کتاب: سفیرانِ حرام
مصنف: خان آصف

سفیرانِ حرم چاروں آئمہ کرام یعنی امام ابوحنیفہؒ، امام ابو مالکؒ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے حالات و واقعات پر مبنی مضامین کا مجموعہ ہے۔ ان مضامین میں خان آصف نے چاروں آئمہ کرام کے علمی خدمات اور اُن کے زندگی کے ایمان افروز واقعات منفرد انداز میں بیان کئے ہیں۔
خان آصف پاکستان کے بہت نامور تاریخ دان اور اعلیٰ پائے کے ادیب ہے۔ علم و ادب کا یہ منفرد ستارہ، احباب کے دل کا سہارا، لاکھوں قارئین کا پیارا، 23 فروری 1940ء کو یوپی انڈیا کے شہر رام پور میں پیدا ہوا، اور دسمبر 2003 ء کو کراچی میں اس جہانِ فانی سے کوچ کرگئے۔ اُس کا والد فیروزشاہ خان ایک جاگیردار تھے اور رام پور کے شرفاء میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔فیروز شاہ خان جاگیردارانہ ماحول کے باوجود نہایت نیک و متقی، مذہب و تصوف سے خصوصی لگاؤ رکھنے والے انسان تھے ۔ شاید یہی وجہ تھی کہ نومولود جس کا نام آصف شاہ خان رکھا گیا تھا، اپنی ابتدائی تعلیم و تربیت کے زمانے سے ہی مذہبی رنگ میں رنگ گیا۔ یہ رنگ اس وقت بھی نہ اُڑا جب جوانی کی فلمی شوق اسے ممبئی کی فلم نگری میں لے گئی۔
نہیں معلوم کہ اب تک کتنے لوگ ایسے ہوں گے جو خان آصف کی انڈیا اور پاکستان فلمی دلچسپیوں اور مصروفیات کے بارے میں جانتے ہوں گے۔ بے شمار قارئین ان کے بارے میں صرف اتنا ہی جانتے ہیں کہ وہ تاریخ کے رمز شناس تھے، نہایت اعلیٰ پائے کی تاریخی کہانیاں تحریر کیں۔ صوفیائے کرام سے خصوصی لگاؤ رکھتے تھے لہٰذا صوفیائے کرام کے سوانح بیان کرنے کا حق ادا کردیا، لیکن درحقیقت خان آصف ایک ہمہ صفت و ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے۔ وہ اپنی طرزکے منفرد شاعر اور ادیب ہی نہیں تھے، فنونِ لطیفہ کے دیگر شعبوں کا بھی عملی تجربہ رکھتے تھے۔ اسکرپٹ رائٹنگ کی تربیت خان صاحب نے مشہور بھاری ہدایت کار و فلم ساز بی آر چوپڑا کے اسٹوڈیو میں مشہور شاعر جناب اخترالایمان کی نگرانی میں حاصل کی۔ اسی لئے وہ ہمیشہ اخترالایمان کا نام نہایت عزت و احترام سے لیتے تھے۔ یہاں یہ بات بھی واضح کردیں کہ خان صاحب اپنی بے لاگ رائے کے اظہار میں نہایت نڈر اور بے باک انسان تھے لیکن جو اہلِ علم و ہنر ان کی نظر میں معتبر تھے ان کی بعض خامیوں سے بھی صرفِ نظر کرجاتے تھے۔ مثلاً اخترالایمان کی شاعری کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے تھے مگر اس حوالے سے گفتگو چھڑ جائے تو نرم رویہ اختیار کرتے۔
خان صاحب دوسری بار غالباً 1968ء میں پاکستان آئے تو پھر یہیں کے ہورہے۔ شعبہ صحافت سے وابستگی اختیار کی اور روزنامہ “حریت” سے منسلک ہوگئے۔ “حریت” کے فلمی صفحے کے لئے مضامین لکھتے رہے۔ فلمی دنیا سے بھی رابطہ کیا اور جناب فضل احمد کریم فضلی کے ساتھ فلم “ایسا بھی ہوتاہے” کی تکمیل کے دوران میں کام کیا۔ ابراہیم نفیس نے ایک فلم بنائی تھی “دل والے” اس کے گانے بھی لکھے۔ الغرض غمِ روزگار نے بالاخر روزنامہ جسارت تک پہنچا دیا ۔ روزنامہ جسارت میں ملکی و غیرملکی حالاتِ حاضرہ پر ایک قطعہ روزانہ اور ایک طویل نظم ہفتہ وار لکھنا شروع کیا۔ بعد میں جب روزنامہ جسارت عتاب کا شکار ہوا اور حکومتِ وقت نے اس کی اشاعت پر پابندی لگادی تو خان صاحب نے ایک فکشن میگزین کا اجراء کیا جس کا نام “داستان ڈائجسٹ” تھا۔ یہ ماہنامہ 1982ء تک جاری رہا پھر بند ہوگیا۔ 1983ء میں خان صاحب جاسوسی ڈائجسٹ سے وابستہ ہوگئے اور اہل تصوف اور آئمہ کرام کے بارے میں مضامین لکھنے لگے۔ انہوں نے کئے تاریخی ناولوں کے ساتھ ساتھ مشہور اولیاء کرام اور صوفیائے کرام کے بارے میں دل و دماغ کو منور کرنے والے کتابیں لکھیں۔ اُن کے چند کتب اور تاریخی ناول جو اب تک پاکستان ورچوئل لائبریری پر شائع ہوچکے ہیں ، درج ذیل ہیں۔

زندہ لوگ
شمشیر کا قرض ناول
سربُریدہ ناول
فقیہِ اعظم حضرت امام ابو حنیفہ
رضیہ سلطانہ از خان آصف
اللہ کے ولی
فاتحِ اعظم صلاح الدین ایوبی
بت شکن ناول
خاموش وفا ناول
اللہ کے سفیر
شعلوں کا کفن ناول
اندھیروں کے قافلے
دلوں کے مسیحا
زیرنظر مضامین “سفیرانِ حرم” کے تمام مضامین سب سے پہلے جاسوسی ڈائجسٹ میں شائع ہوئے اور بعد میں کتابیات پبلی کیشنز نے اس مجموعے کو کتابی شکل میں شائع کردیا۔ تمام مضامین ایسے عام فہم اور دل نشین انداز میں لکھے گئے ہیں کہ ہر علمی سطح کا قاری اس میں دلچسپی لے اور چاروں آئمہ کے گراں قدر علمی کارناموں سے واقف ہوسکے ۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں