رقصاں سرِ بازار ناول از انوراحسن صدیقی

ناول کا نام: رقصاں سرِ بازار

Advertisement

مصنف: انوراحسن صدیقی

اس مجموعے میں شامل یہ چار طویل کہانیاں چار مختلف اخباری خبروں پر مبنی ہیں۔ خبریں تو محض چند سطری اور نامکمل ہیں لیکن ان میں سے ہر ایک خبر اپنے اندر انکہی داستانوں کے ایک پیچ در پیچ سلسلے کو چھپائے ہوئے ہے۔ مصنف نے ان انکہی داستانوں کو حرف و صورت میں ڈھالنے کی اور ان کو ایک ہی موضوع کے تابع کرنے کی کوشش کی ہے۔

یہ ان چار الگ الگ عورتوں کی کہانیاں ہیں جو زندگی کے سفر کے دوران راستوں کے پیچ و خم میں الجھ کر کوٹھے پر  پہنچ گئیں۔ یہ چاروں عورتیں مختلف راستوں سے کوٹھے تک پہنچیں لیکن ان میں ایک چیز مشترک تھی اور وہ یہ کہ سب کی سب سماجی جبر کا شکار تھیں جو صدہا شکلوں کا حامل ہوتا ہے۔کسی عورت کے لئےکوٹھے تہنچنے کے تو بہت سارے راستے ہوتے ہیں لیکن یہاں سے واپسی کاشاید کوئی راستہ نہیں ہوتا۔

ہمارےمردانہ غلبے والےمعاشرے میں عورت کی شخصیت کاتعین مرد کے ساتھ اس کے کسی نہ کسی رشتے کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔اسے ماں،بہن، بیوی اوربیٹی قرار دیا جاتا ہے اور ان سارے رشتوں کو محترم گردانا جاتا ہے۔ لیکن مرد کے ساتھ اس کاایک اور ایسا رشتہ بھی ہے جس کے ذکر سے بہت سی ثقہ پیشانیوں پر بل پڑجاتے ہیں جبکہ فی الحقیقت یہ رشتہ ایسا ہے جو مرد کی مکمل شرکت کے بغیر اپنا کوئی وجود نہیں رکھتا۔ یہ طوائف کارشتہ ہے۔

ان چاروں کہانیوں میں اس امر کا جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے کہ  وہ ناسازگار عوامل کتنے مختلف النوع ہوسکتے ہیں جو کسی عورت کو ماں، بہن، بیوی یا بیٹی کے رشتوں سے الگ کرکے صرف طوائف کے رشتے کو اس کی پہچان مقرر کردیتے ہیں اور پھر اس پہچان سے چھٹکارا حاصل کرنا کتنا دشوار ہوتا ہے۔

Download now

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *