بھٹکتی نسلیں از خورشید قائم خانی 18

بھٹکتی نسلیں از خورشید قائم خانی

بھٹکتی نسلیں از خورشید قائم خانی

بھٹکتی نسلیں‘ سندھ کے خانہ بدوش قبیلوں اور قوموں کے متعلق تحقیق پر مبنی مضامین کا مجموعہ ہے، جن میں سندھ کے مختلف خانہ بدوش قبائل کی تاریخ، رہن سہن اور تہذیب و ثقافت پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ خورشید کی یہ کتاب سندھ میں جپسی قبیلوں کے متعلق ایک اہم تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔

خانہ بدوش، شیدی (سدی-افریقی سندھی)، کسان اور عورتیں دھرتی کی کچلی ہوئی نسلوں میں شامل ہیں۔ زمانہ قدیم سے ہر دور میں انہیں کچلا گیا، بیوپاری کی اجناس کی طرح ان کا سودا کیا گیا اور ان پر ناگفتہ بہ ظلم ڈھائے گئے۔ مگر معاشی و سماجی اعتبار سے انسانیت کی نچلی ترین سطح پر زندہ رہنے والے یہ لوگ، تہذیب و ثقافتی طور پر بلاشبہ امیر تین کہلانے کے مستحق ہیں۔ اِن کے گیت، ان کی انکہی کہانیاں، ان کے ساتھ کی گئی اُن گنت زیادتیوں کی طرح اِن کے دل کی گہرائیوں میں دفن ہیں۔

ماہر عمرانیات، انتھراپولوجی کے مطابق کولھی، بھیل، میکھ واڑ، جوگی ونیز دیگر خانہ بدوش قبائل جن کا تعلق زیادہ تر راجستھان کے صحرا اور گجرات سے ہے، حقیقت میں برصغیر کی قدیم ترین نسلوں سے تعلق رکتھے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان میں سے بیشتر کا تعلق دراوڑ نسل سے ہے، جنہیں وادی سندھ کی تہذیب کے زوال پذیر ہونے پر آریہ حملہ آوروں نے غلام بنا لیا۔

ان خانہ بدوشوں کو آج بھی سندھ کی دھرتی پر در بدر بھٹکتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بہرحال سندھ کے نام نہاد سورما اور خود ساختہ وارثوں نے دھرتی کے ان قدیم سپوتوں کو ابھی تک قبول نہیں کیا ہے۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موجودہ سندھی قوم پرست تحریک پر سیدوں اور بلوچوں کا غلبہ ہے جو حقیقت میں خود بھی حملہ آوروں کی صورت میں یہاں وارد ہوئے تھے۔

“شیدی” گو اپنی خداداد صلاحیتوں، خوش کن کرداروں اور اپنے روح پرور، سریلے ناچ گیتوں کے ذریعہ اعلیٰ طبقہ کی محفلوں میں اپنے لئے جگہ تو بنا لیتے ہیں، مگر ان کی تاریخ، ان کی مسخ شدہ زندگیوں کی طرح تعصب کا شکار ہے۔ وہ اب بھی “سیدوں” اور بلوچ رئیسوں (سندھ کی دوہرے حکمران) کے گھروں اور دروں پر کسمپرسی کی حالت میں دیکھے جاسکتے ہیں۔

ان افتادگانِ خاک انسانوں کے بارے میں تحقیق و تحریر کے لئے خورشید قائم خانی سے موزوں شاید ہی کوئی اور ہو، کیونکہ وہ راجستھانی خانہ بدوش بھی ہے اور انتھرولوجی کا شائق بھی۔ “بھٹکتی نسلیں” حقیقت میں خورشید کے ان انگریزی مضامین کا مجموعہ ہے جو اُس نے کراچی کے انگریزی روزنامہ “اسٹار” کے لئے لکھے تھے۔

اس کتاب کی کئی ایک رخ ہیں۔ ایک طرف یہ سفرنامہ بھی ہے تو دوسری طرف “بھٹکتی نسلوں” پر بصیرت کے ساتھ کی گئی گہری تاریخی تحقیق بھی۔ عمرانیات کے نقطہ نگاہ سے بیشک یہ مقالے تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ اس لئے بھی کہ اس سے پہلے کسی نے ان پر قلم اٹھانے کی زحمت گوارا نہیں کی۔

قائم خانی نے اپنے ذاتی تجربہ کی بنیاد پر زندہ اور متحرک لوگوں کے بارے میں لکھتا ہے۔ اُس نے اپنی زندگی کے بیش بہا لمحات بھیلوں، کولھیوں اور شیدیوں کے ساتھ کبھی صحرا اور کبھی شہری جھونپڑیوں اور خیموں میں گزارے ہیں۔ اُس نے فوج میں میجر کے عہدہ سے استعفیٰ دے کر سچائی کو قلمبند کرنا شروع کردیا۔ وہ اس تڑپ میں ٹورانٹو یونیورسٹی میں منعقدہ بین القوامی جپسی کانفرنس میں شرکت کے لئے کنادا بھی پہنچا جہاں اُس نے بین القوامی جپسیوں اور دیسی خانہ بدوشوں کی لسانی و ثقافتی بنیادوں پر تقابلی مقالہ بھی پڑھا۔

“بھٹکتی نسلیں” زمانہ کے ان ستائے ہوئے لوگوں کی زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتی ہے۔ قائم خانی ان کی ستم ظریفوں کے ساتھ ساتھ ان کی جدوجہدِ زندگی کے مثبت پہلوؤں کو بھی اُجاگر کرتا ہے۔ مثلاً سندھ کی ایک چھوٹی سے گوٹھ میں پیدا ہونے والی شیدی لڑکی ” شاہدہ” کی کہانی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ مجموعی اعتبار سے ” بھٹکتی نسلیں” خورشید قائم خانی کی حیرت انگیز، بامقصد اور کامیاب تصنیف ہے جو عام ڈگر سے ہٹ کر ہے۔ اُن کی یہ منفرد تصنیف قابلِ ستائش ہی نہیں بلکہ مبارک باد کی مستحق ہے۔ امید کرتا ہوں کہ یہ محض ابتدا ہے اور خورشید قائم خانی اپنے قلم سے ابھی ہمیں بہت فیض بخشے گا۔

یہاں سے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں