پری ناول از خالد فتح محمد

“پری” معروف پاکستانی افسانہ نگار اور سابق کیولری افسر خالد فتح محمد کا ایک اہم اردو ناول ہے۔ اس ناول میں انسانی جذبات و خواہشات، پیچیدہ رشتوں، نفسیاتی کشمکش اور پاکستان کے سیاسی و سماجی نظام کی حقیقتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ناول اپنی جدید اور مابعد جدید تکنیک کے ذریعے فرد کی داخلی دنیا کو ملکی سیاست اور طاقت کے پیچیدہ کھیل سے جوڑتا ہے۔

کہانی کا مرکز کردار “ذہرہ جبیں” نامی ایک مضبوط اور پُرکشش نسوانی کردار ہے، جس کی شخصیت ناول کے راوی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ اس کشش کے نتیجے میں خواہش، محبت، حسد، نفرت اور باہمی رقابت کے ایسے سلسلے جنم لیتے ہیں جو کرداروں کی نفسیاتی پیچیدگیوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ یہاں انسانی تعلقات محض محبت یا دوستی تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان کے اندر چھپی ہوئی کمزوریوں اور تضادات بھی سامنے آتے ہیں۔

خالد فتح محمد نے ناول کی کہانی کو روایتی انداز میں سیدھے تسلسل کے ساتھ بیان کرنے کے بجائے ایک قدرے بکھرے ہوئے اور تہہ دار اسلوب میں پیش کیا ہے۔ واقعات، احساسات اور کرداروں کی کیفیات مختلف زاویوں سے سامنے آتی ہیں، جس سے ناول کو مابعد جدید فکشن کی مخصوص فضا ملتی ہے اور قاری کو کہانی کے ظاہری واقعات کے ساتھ اس کے پوشیدہ مفاہیم پر بھی غور کرنا پڑتا ہے۔

’’پری‘‘ کا ایک اہم پہلو اس کی سیاسی معنویت ہے۔ ناول پاکستانی سیاسی نظام کے ان پہلوؤں کو بے نقاب کرتا ہے جہاں سیاست، افسر شاہی اور طاقت ور اداروں کے مفادات ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔ ذاتی مفاد کے لیے اختیار کے استعمال، سیاسی فیصلوں پر غیر سیاسی قوتوں کے اثر اور پسِ پردہ ہونے والی مفاداتی کشمکش کو ناول نہایت سنجیدگی سے پیش کرتا ہے۔

یوں ’’پری‘‘ محض چند کرداروں کے باہمی تعلقات کی داستان نہیں بلکہ انسانی نفسیات سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک پھیلی ہوئی ایک پیچیدہ کہانی ہے، جس میں فرد کی خواہشات، معاشرتی رویے اور سیاسی حقیقتیں ایک دوسرے میں مدغم ہو جاتی ہیں۔ یہی فکری گہرائی اور منفرد اسلوب اسے جدید اردو ناول میں ایک قابلِ توجہ تخلیق بناتا ہے۔

ٍ

Leave a Comment