مولانا فضل الرحمان شخصیت و سیاست از سلیم جاوید

مولانا فضل الرحمان شخصیت و سیاست از سلیم جاوید

کتاب “مولانا فضل الرحمان شخصیت و سیاست”تحریر سلیم جاوید ۔اس کتاب میں مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت اور اُن کی سیاسی جدوجہد کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ کسی زندہ شخصیت بارے کتاب نہیں لکھنا چاہئے کیونکہ آدمی کے بدلنے نہ بدلنے کی کوئی گارنٹی نہیں ہو ا کرتی ( نہ مصنف کی اور نہ اس کی ممدوح کی ) تاہم کچھ وجوہات ہیں جن کا احساس آپ کو یہ کتاب پڑھ کر ہوگا۔ راقم نے مولانا فضل الرحمٰن کی شخصیت کو موضوع بنایا ہے، جسے آج کی تاریخ تک کا احساس سمجھ لیجئے اس لئے کہ “نہ بدلنے والا کلام” صرف خُدا کی ذات ہے۔
میرے خیال ہے، کسی کتاب کو پڑھنے سے قبل ، اس کے مصنف کے مزاج اور عقیدہ سے آشنائی بے حد ضروری ہوتی ہے۔ یہ کتاب پڑھتے ہوئے آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مصنف علماء کا قدردان ضرور ہے مگر اس کا مدارسِ اسلامیہ یا علماء سے کوئی خاندانی یا نسبی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے مصنف کا فہم دین بعض علماء کی صحبت یا ذاتی مطالعہ کی بناء پر ہے۔ اپنے فہم دین کے درست ہونے پر ہرگز اصرار نہیں ہے۔
مصنف تاریخ و سیاست کا سنجیدہ طالبعلم ہے اور اپنے اس مطالعہ کی بنیاد پر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمیعت علماء اسلام کا ایک بڑا ہی فیصلہ کن اور مثبت کردار محسوس کرتا ہے۔ اپنی اس علمی نتیجہ خیزی اور سیاسی تاثر پر ہر گز اصرار نہیں ہے۔
مصنف کو مولانا فصل الرحمٰن کی شخصیت و سیاست سے عرصہ 35 سال سے مستقل ربط ہے ، مگر مولانا سے کوئی ذاتی یا جماعتی تعلق نہیں ہے۔ اس لئے مولانا کی اندرونِ خانہ سیاسی پالیسی سے واقف نہیں ہے۔ زیر نظر تجزیہ ، ایک عام پاکستانی کا ایسا بے لاگ تجزیہ ہے جس کی بنیاد کسی دانستہ غلط بیانی ہرگز نہیں ہے۔ اپنے تجزئے کے درست ہونے پر ہرگز اصرار نہیں ہے۔
مصنف کی عملی دینی سرگرمیاں صرف تبلیغی محنت تک محدود ہیں، مگر مصنف بنیادی طور پر سیکولر نظریات کا حامی ہے اور سیکولرزم کو دین کا لازمی حصہ سمجھتا ہے اور اپنے اس مقف کو دلیل سے واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم اپنی دلیل کے درست ہونے پر ہرگز اصرار نہیں ہے۔
مصنف علمائے دیوبند کی سیاسی سٹریٹیجی کا پرزور حامی ہے۔ اس لئے کہ اس کو جمہوری اور سیکولر اصولوں کے مطابق سمجھتا ہے۔
مصنف نے جمیعت علماء کو سیکولرازم کے آئینے میں دیکھا ہے ۔ مصنف سمجھتا ہے کہ مکتبِ دیوبند کی سیاسی جدوجہد کی اساس، اس مجبور انسانیت کو پرامن طور پر معاشی افزودگی عطا کرنا ہے جو جابر بالادست طبقات کے ہاتھوں پسی ہوئی ہے اور اسی کاز کی خاطر ، وہ ہر زمانے کے سامراج سے ٹکرائے ہیں ( بلکہ صرف وہی ٹکرائے ہیں۔)
بالادست طبقات کے زیراثر میڈیا، نہ صرف علمائے دیوبند کی خدمات کو سامنے نہیں آنے دیا کرتا بلکہ ان کی کردارکشی میں ہراول دستے کا کردار ادا کرتا رہتا ہے۔ علمائے دیوبند کی اسی کردارکشی کو ہدف بنا کر، جمیعت علما اسلام کے موجودہ امیر فضل الرحمٰن کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔ چاہئے تھا کہ قوم میں شخصیات کی بجائے نظریات پہ بحث ہوا کرتی، سیاسی منشور اور اہداف پہ بات ہوا کرتی، لیکن پاکستانی جمہوریت چونکہ ابھی پاؤں پاؤں چلنا سیکھ رہی ہے اور سیاسی جماعتیں اپنے لیڈروں کے شخصی کردار سے مستغنی نہیں ہوسکتیں، پس فی الوقت جمیعت علماء اسلام بھی گویا مولانا فضل الرحمٰن کا نام ہے۔
مولانا کی کردارکشی جمیعت علماء کی کردارکشی ہے اور مولانا کا دفاع، جمیعت علماء کا دفاع ہے۔ مصنف سمجھتا ہے کہ جمیعت علماء اسلام مولانا فضل الرحمٰن کی ذاتی سیاسی جماعت نہیں ہے بلکہ علمائے دیوبند کا صدسالہ سیاسی ورثہ ہے جس سے جمیع علمائے دیوبند کی عزت وابستہ ہے۔ پس مولانا کی کردارکشی مہم کی آخری منزل ، جمیع علمائے دیوبند کو کرپٹ ثابت کرنا اور پھر اس کی آڑ میں ، دینِ اسلام کی اصل پہ حملہ کرنا ہے۔ اس وجہ سے مولانا فضل الرحمٰن کا دفاع کرنا، ان کی شخصیت کے واسطے نہیں بلکہ جمیع علمائے دیو بند کی عزت کے واسطے ضروری سمجھتا ہے۔
علاوہ ازیں ، مصنف سمجھتا ہے کہ پاکستان جیسے ملک کے لئے سیکولرازم، یعنی ” جیو اور جینے دو” کی پالیسی ہی بہترین ہے۔ جمیعت علمائے اسلام وہ سیاسی پارٹی ہے جو اپنا موقف، پارلیمنٹ کے سامنے رکھ کر دلیل سے بات منوانا چاہتی ہے اور بزور طاقت اپنی بات نہیں منوانا چاہتی۔ پس ایک مائنڈسیٹ (مزاج) مولانا فضل الرحمٰن کا ہے اور دوسرا، ملا فضل اللہ کا۔
اس کتاب کے لکھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ لوگوں کو یہ احساس دلایا جائے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ڈی گریڈ کرکے، ان کو دیوار سے لگانے کا بالواسطہ مطلب، پاکستان کو شدت پسند ذہنیت کے ہاتھوں یرغمال بنانا ہے۔
اس کتاب میں مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ جابجا، عمران خان کا تذکرہ ملے گا کیونکہ مولانا پر الزامات کی بارش، ان ہی کی جماعت کی طرف سے ہوتی ہے۔ عمران خان اپنے متعلق اکثر کہتے ہیں کہ اگر میں غلط ہوں تو حکومت نوازشریف کی ہے اس کا فرض ہے مجھے گرفتار کرے۔ یہی بات ان کو کہی جاسکتی ہے کہ اب تو آپ کی حکومت ہے ، آپ مولانا کو غلط سمجھتے ہیں تو گرفتار کریں۔ مگر عمران ، نواز نورا کشتی کو ایک طرف رکھ کر، ہم دلائل پہ بات کریں گے۔
مصنف ایک سیکولر لکھاری ہیں، جو دیگر موضوعات کے علاوہ جمیعت علما اسلام اور مولانا فضل الرحمٰن بار گاہے بگاہے لکھتا رہا ہے۔ مختلف مواقع پر پبلش ہوئے ایسے مضامنین کو معمولی نظرثانی کے بعد بعینہ شامل کردیا گیا ہے تاکہ مضمون کی وہ کیفیت برقرار رہے ۔ یوں کتاب گویا، الگ الگ عنوانات کے تحت کئے مضامین کا ایک مجموعہ ہے۔
اس کتاب میں آپ کو عمران خان کا تذکرہ بھی کثرت سے ملے گا۔ مصنف کو یقین ہے کہ اصغرخان کی طرح چند سال بعد سیاست میں عمران خان ایک قصہ پارینہ بن جائے گا ، تاہم فی الوقت پاکستانی میڈیا ، عمران خان اور ان کے سپانسرز کے کنٹرول میں ہے اور عمران خان ہی ، مولانا کی کردارکشی کا بیڑہ اٹھائے ہوئے ہے تو اس آدمی کا تذکرہ بھی بوجوہ ضروری ہوجاتا ہے۔
اس کتاب میں آپ کو تبلیغی جماعت کا تذکرہ بھی ملے گا ، اگرچہ وہ سرے سے غیر سیاسی جماعت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمیعت علما اسلام ، بہرحال ایک دینی جماعت ہے اور اگرچہ اس کا میدان تعلیم، تبلیغ، تزکیہ ، جہاد یا مناظرہ سے مختلف ہے ( اہلِ علم اس نکتہ کو خوب سمجھتے ہیں)۔ تاہم عوام الناس کا دین سے رابطہ زیادہ تر تبلیغی جماعت کی وجہ سے ہوا ہے اور عوام دیگی دینی جماعتوں کو تبلیغی جماعت کے تناظر میں ہی دیکھتے ہیں۔ پس کتاب میں تبلیغی جماعت کا حوالہ بھی، بوجوہ آپ کو ملے گا۔
اس کتاب سے چونکہ مولانا فضل الرحمٰن کی وکالت مراد ہے تو عام اسلوب میں اسے متوازن تجزیہ نہیں کہا جاسکتا۔ صاف ظاہر ہے کہ مصنف نے اپنے موکل کا ہر صورت دفاع کرنا ہوگا، تاہم اگر ایک مصنف مزاج قاری، بغیر تعصب کے اس کتاب کو پڑھے گا تو اس کا ضمیر یہ شہادت ضرور دے گا کہ یہ کتاب کسی اندھے مقلد کی لکھی ہوئی بہرحال نہیں ہے۔
کتاب “مولانا فضل الرحمٰن شخصیت و سیاست” پاکستان ورچوئل لائبریری کے قارئین کے مطالعہ کے لئے آنلائن پیش کی جارہی ہے. کتاب آنلائن پڑھنے اور مفت ڈاؤنلوڈ کرنے کے لئے دستیاب ہے.

Advertisement

یہاسے ڈاؤنلوڈ کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں