شاہین ناول از نسیم حجازی 316

شاہین ناول از نسیم حجازی

شاہین، ایک اور شاہکار تاریخی ناول از نسیم حجازی

شاہین ، نسیم حجازی کا ایک اور شاہکار تاریخی ناول ہے جس میں 1492 میں سقوطِ غرناطہ اور اسپین سے مسلمانوں کے انخلا کی مکمل تاریخ بیان کی گئی ہے۔ کہانی غرناطہ کے ایک تاریخی کردار بدر بن مغیرہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس میں اسپین کے آخر مسلمان بادشاہ “ابو عبداللہ اور موسیٰ بن ابی غسان کے حالات بھی بیان کئے گئے ہیں۔ یہ ناول ابو عبداللہ اور موسیٰ کے ساتھ پیش آنے والے تمام تاریخی واقعات کو افسانوی انداز کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ نسیم حجازی نے سقوطِ غرناطہ اور اسپین میں مسلمانوں کے زوال کی مکمل تصویر کشی کی ہے اور ہر تفصیل کو ایک کمپوزڈ انداز میں پیش کیا ۔
نامور مصنف نسیم حجازی کی یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جب لوگ تاریخ سے سبق نہیں سیکھتے تو انہیں سنگین نتائج بھگتنا پڑتے ہیں۔ اس کتاب میں حجازی نے ہمیں سپین کے مسلمانوں کے حالتِ زار کی جو وجوہات بیان کی ہے ، وہ وہی ہے جو دُنیا کے ہر قوم کے زوال کا سبب بنتی ہے، یعنی معاشرے کی فلاح و بہبود میں عدم دلچسپی، اخلاقی انحطاط، اپنے اہداف سے محروم ہونا، اور ظاہر ہے کہ اندر کے غدار بھی جنہوں نے اپنی ذاتی آسائش کے لیے قوم کی عزت و وقار کو بیچ ڈالا ۔ نسیم حجازی نے اس نکتے پر زور دیا ہےکہ خدا انسانوں کی انفرادی گناہ تو معاف کر تاہے، لیکن کسی قوم کی اجتماعی غلطیوں کو کبھی معاف نہیں کرتا۔
مسلمانوں کو سپین سے کیسے نکالا گیا، اور اُن کے زوال کے اسباب کیا تھے؟ نسیم حجازی نے افسانوی اسلوب کے ساتھ تاریخی اعتبار سے درست معلومات فراہم کر کے اردو ادب کی بہت بڑی خدمت کی ہے جو اتنی ہی دلچسپ بھی ہے۔ ان کی پچھلی کتابوں “محمد بن قاسم”، “معظم علی”، “آخری چٹان” کی طرح یہ کتاب بھی ہمارے مسلمان فاتحین کے عظیم کارناموں کی یاد دہانی کراتا ہے۔ یہ بہترین ناول ہمیں ہماری اقدار اور تاریخ میں ہماری حیثیت کی یاد دلاتا ہے۔ اُمید ہے یہ آج کی نسل کے لیے چشم کشا ثابت ہوگی۔
نسیم حجازی پاکستان کے بلند پایہ مصنف، تاریخ دان اور ناول نگار تھے جو اسلامی تاریخی افسانے لکھنے کے لیے مشہور تھے۔ اُن کا صلی نام شریف حسین تھا۔ نسیم حجازی برطانوی دور کے ہندوستان میں پیدا ہوئے اور آزادی کے بعد لاہور، پاکستان میں آباد ہوئے۔ اسلامی تاریخ پر مبنی ان کے ناولوں کو اردو ادب میں ایک خاص صنف میں شمار کیا جاتا ہے۔
قرون وسطیٰ کی کہانیوں کا یہ عجیب و غریب تخلیق کار 20ویں صدی کے نصف آخر میں ایک عظیم تاریخی ناول نگار کے طور پر اُبھرے۔ ایک ایسا شخص جس نے اردو کے تاریخی افسانے کو تقریباً اکیلے ہی اپنے عروج پر پہنچایا، وہ ہے نسیم حجازی کا جو ہماری تاریخ کے عظیم افسانہ نگار تھے۔ یہ کہنا بعید از قیاس نہیں ہوگا کہ آج بھی جب پاکستان میں تاریخی ناول نگاری کی بات ہوتی ہے تو زیادہ تر لوگ نسیم حجازی کے بارے میں ہی سوچتے ہیں ۔ قارئین، خاص طور پر پرانی نسلوں نے، اپنی زندگی میں کم از کم ایک یا دو حجازی ناول ضرور پڑھے ہوں گے۔
خاک اور خون، شاہین، گمشدہ قافلے، قیصر و کسرا، اور بہت سی کتابیں اب بھی کئی لائبریریوں کے پرانے ذخائر میں موجود ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے، وہ جنوبی ایشیائی اور اسلامی تاریخ کا ایک دروازہ تھا۔ اُن کے دو ناولوں ” آخری چٹان” اور شاہین پر تو پاکستان ٹیلی وژن نے ڈرامے بھی ٹیلی کاسٹ کئے جو اپنے دور میں نہایت مقبول ہوئے اور بچے ، بڑے سب بہت شوق سے ان ڈراموں کو دیکھا کرتے تھے۔
ان کے زیادہ تر ناول اسلامی تاریخ کے زوال پذیر ادوار پر لکھے گئے ہیں۔ اس کی کہانیاں ایسے وقت میں ترتیب دی گئی ہیں جب اس کے مرکزی کرداروں کی دنیایں اُجھڑ رہی ہیں۔ اسپین کا زوال، منگولوں کے حملے، اموی اور عباسیوں کی بے حیائی، اور انگریزوں کے ہاتھوں ہندوستان کا زوال۔ اُس کی داستانیں جنگ و جدل، اتھل پتھل، المیوں، اور مستقل تبدیلی کو بیان کرتی ہیں جہاں پرانا نظام ہمیشہ ٹوٹ رہا ہوتا ہے اور نئی تباہ کن اجنبی قوتیں اقتدار سنبھال رہی ہوتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں