کتاب کا تعارف: چندی گڑھ تک (سفر نامہ)
مصنف: محمد اطہر مسعود
یہ کتاب دراصل ایک یادگار سفر کی کہانی ہے—ایسا سفر جو محض شہروں اور راستوں کا بیان نہیں بلکہ لوگوں، تہذیبوں اور مہمان نوازی کی زندہ روایتوں کا آئینہ دار ہے۔ چندی گڑھ تک ایک ایسے مسافر کی روداد ہے جو راستوں میں بچھے ہوئے سایہ دار درختوں کی مانند دل کش انسانوں سے ملتا ہے، اور ہر پڑاؤ پر ایک نئی دنیا دریافت کرتا ہے۔
یہ سفرنامہ دراصل اُس مصرع کی دل آویز تفسیر ہے:
“سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے”
اور واقعی، اس سفر میں مسافر نواز ایک سے بڑھ کر ایک ملتے ہیں۔ جہاں بھی قیام ہوا، جس در پر دستک دی گئی، وہاں خلوص و محبت کی ایسی برسات ہوئی کہ قاری خود کو اس مہمان نوازی کا حصہ محسوس کرنے لگتا ہے۔ رنگا رنگ دسترخوان، مختلف ذائقوں کے پکوان، مٹھائیوں کی شیرینی، دیوالی کی رونقیں، آتش بازی کی چمک اور سنگیت سمیلن کی محفلیں—یہ سب مل کر ایک بھرپور تہذیبی منظرنامہ تخلیق کرتے ہیں۔
محمد اطہر مسعود کا مشاہدہ نہایت تیز اور باریک بین ہے۔ وہ معمولی نشست و برخاست اور روایتی مہمان نوازی کو بھی اس سلیقے سے بیان کرتے ہیں کہ وہ محض روایت نہیں رہتی بلکہ ایک زندہ تجربہ بن جاتی ہے۔ ان کا اندازِ تحریر سادہ مگر دل نشین ہے، جس میں تازگی اور روانی کی ایسی لہر ہے جو قاری کو ابتدا سے انتہا تک اپنے ساتھ بہائے رکھتی ہے۔
یہ سفرنامہ صرف چندی گڑھ تک کے سفر کا بیان نہیں بلکہ انسانی رشتوں، تہذیبی رنگوں اور باہمی محبتوں کی ایک خوبصورت داستان ہے۔ ہر ہوٹل، ہر گھر، ہر ملاقات گویا “شجرِ سایہ دار” ثابت ہوتی ہے، جہاں مسافر کو راحت بھی ملتی ہے اور یادیں بھی۔
مختصر یہ کہ چندی گڑھ تک ایک ایسا سفرنامہ ہے جو راستوں سے زیادہ انسانوں کا سفر ہے—اور قاری کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر سفر شرط ہے تو مسافر نواز واقعی بہتیرے ہیں۔