تابوتِ سکینہ کا راز ناول از توصیف اسلم
توصیف اسلم کا ناول تابوتِ سکینہ کا راز ایک سنسنی خیز اور فکر انگیز تخلیق ہے جو قاری کو ابتدا ہی سے اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے۔ یہ کہانی محض ایک مہم جوئی نہیں بلکہ علمِ آثارِ قدیمہ، مذہبی روایات، اور ماورائی عناصر کا ایسا امتزاج ہے جو اردو فکشن میں کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ مصنفہ نے ایک ایسے راز کو بنیاد بنایا ہے جس کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں پیوست ہیں اور جس کی تلاش آج بھی مختلف حلقوں میں جاری ہے۔
ناول کی کہانی ایک پراسرار صندوق “تابوتِ سکینہ” کے گرد گھومتی ہے، جس کی تلاش میں مختلف قوتیں سرگرمِ عمل ہیں۔ ایک طرف ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا گروہ ہے جو سائنسی بنیادوں پر اس کی کھوج میں مصروف ہے، جبکہ دوسری جانب کالی طاقتیں اور غیر مرئی عناصر بھی اسی مقصد کے لیے کوشاں دکھائی دیتے ہیں۔ اسی جستجو میں ایک حیران کن کردار، چاند کی ملکہ، بھی سامنے آتی ہے جو اس راز تک پہنچنے کے لیے دنیا کے مختلف خطوں کا سفر کرتی ہے۔
مصنفہ نے کہانی کو محض ایک مقام تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے بین الاقوامی وسعت دی ہے۔ مصر کے اہرام سے لے کر فلسطین کے مقدس مقامات، جاپان کے پراسرار جزائر سے لے کر بلوچستان کے قدیم علاقے مہر گڑھ تک، ہر جگہ کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ قاری خود کو ان مقامات کی سیر کرتا محسوس کرتا ہے۔ خاص طور پر مہر گڑھ کی قدیم تہذیب کو کہانی میں مرکزی اہمیت دینا اس ناول کو ایک منفرد پہچان دیتا ہے۔
تحقیق اور تخیل کے حسین امتزاج نے اس ناول کو محض ایک کہانی نہیں رہنے دیا بلکہ اسے ایک فکری اور تجسس سے بھر پور تجربہ بنا دیا ہے۔ مصنفہ کا اسلوب رواں، منظر نگاری جاندار، اور پلاٹ میں تسلسل ایسا ہے کہ قاری ہر موڑ پر چونکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
تابوتِ سکینہ کا راز دراصل انسانی جستجو، نامعلوم کی کشش، اور علم کی پیاس کی کہانی ہے، ایک ایسا سفر جو قاری کو نہ صرف محظوظ کرتا ہے بلکہ اسے سوچنے پر بھی آمادہ کرتا ہے۔