کتاب: میں نے خدا کو کہاں دیکھا ؟
تصنیف: جناب ڈاکٹر سید زاہد علی صاحب اسطی
میں نے خدا کو کہاں دیکھا؟ محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک فکری سفر ہے. ایک ایسا سفر جو قاری کو عقیدے، علم اور مشاہدے کے باہم رشتے سے روشناس کراتا ہے۔ ڈاکٹر سید زاہد علی واسطی نے اس کتاب میں خدا کو “دیکھنے” کے مروجہ اور سطحی تصور کو رد کرتے ہوئے انسان کو اس کے اپنے وجود، کائنات کے نظم، اور تخلیق کے حیرت انگیز اسرار کی طرف متوجہ کیا ہے۔
مصنف سائنسی مشاہدے، طبی تجربے اور قرآنی آیات کو نہایت سلیقے سے یکجا کرتے ہیں۔ انسانی تخلیق، دماغ، دل، آنکھ، زبان، خون، گردے اور خوراک جیسے موضوعات کو بیان کرتے ہوئے وہ یہ واضح کرتے ہیں کہ خدا کی ذات آنکھ سے نہیں، بلکہ شعور، عقل اور بصیرت سے پہچانی جاتی ہے۔ ہر عضو، ہر نظام اور ہر حیاتیاتی عمل ایک ایسی زندہ نشانی بن کر سامنے آتا ہے جو خالق کی حکمت، قدرت اور ربوبیت کی گواہی دیتا ہے۔
یہ کتاب نہ فلسفے کی خشک بحث ہے اور نہ سائنس کی محض معلوماتی تحریر، بلکہ ایک سنجیدہ، بامحاورہ اور ادبی اسلوب میں لکھی گئی فکری دعوت ہے، دعوتِ فکر، دعوتِ نظر اور دعوتِ ایمان۔ میں نے خدا کو کہاں دیکھا؟ اُن قارئین کے لیے ایک قیمتی مطالعہ ہے جو یقین کو علم کی روشنی میں، اور علم کو معرفت کے درجے تک پہنچانا چاہتے ہیں۔
