منیر نیازی کی شاعری میں اساطیر کا تجزیاتی مطالعہ ۔ مقالہ برائے بی ایس اردو سیشن 2012 تا 2016
مقالہ نگار: احسان الحق۔
یہ تحقیقی مقالہ اردو ادب کے نمایاں شاعر منیر نیازی کی شاعری میں اساطیری عناصر کے باقاعدہ اور منظم مطالعے پر مبنی ہے۔ اس تحقیق میں شاعر کی تخلیقات کو محض جمالیاتی زاویے سے نہیں دیکھا گیا بلکہ ان کے ہاں موجود دیومالائی اشاروں، تہذیبی حوالوں اور علامتی ساخت کو تنقیدی بصیرت کے ساتھ پرکھا گیا ہے۔
منیر نیازی کی شعری دنیا ایک ایسے تخیلاتی منظرنامے کی تشکیل کرتی ہے جس میں ماضی کی کہانیاں، قدیم روایات اور ثقافتی استعارے نئے معنوی تناظر میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ مقالہ اس امر کی وضاحت کرتا ہے کہ شاعر نے مختلف اساطیری روایتوں، خصوصاً برصغیر کی دیومالا سے وابستہ تصورات کو اپنی داخلی کیفیات کے اظہار کا ذریعہ کیسے بنایا۔ ان عناصر کی شمولیت سے ان کی شاعری میں ایک خاص طرح کی رمزیت اور تہہ داری پیدا ہوتی ہے جو قاری کو بار بار متن کی طرف رجوع کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔
یہ تحقیق اس پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے کہ اساطیر کے ذریعے شاعر نے انسانی احساسات، وجودی اضطراب اور تہذیبی شعور کو کس انداز میں شعری قالب دیا۔ اس طرح یہ مقالہ نہ صرف منیر نیازی کے فکری رویّوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتا ہے بلکہ اردو شاعری میں اساطیری روایت کے تخلیقی استعمال کو بھی ایک مربوط تنقیدی تناظر فراہم کرتا ہے۔
