کتاب: خواب کے بعد (غزلیہ مجموعہ)
شاعر: ابرار حامد
کتاب کا تعارف: سعیدخان
خواب کے بعد دراصل انسان کی باطنی کیفیات، خواب و حقیقت کے درمیانی فاصلے، محبت، خود آگہی اور زندگی کے تلخ و شیریں تجربات کا شعری بیان ہے۔ اس مجموعے میں شامل 64 غزلیں اور 720 فرد اشعار قاری کو اس کی اپنی وارداتِ قلبی کا آئینہ دکھاتے ہیں۔ شاعر نے کوشش کی ہے کہ ہر شعر محض لفظوں کی ترتیب نہ ہو بلکہ ایک ایسی محسوس سچائی بن جائے جس میں قاری خود کو پہچان سکے۔ سادہ، رواں اور زود فہم اندازِ بیان اس کتاب کی نمایاں خصوصیت ہے، جس کے باعث عام قاری بھی گہرے مضامین سے لطف اندوز ہو سکتا ہے۔
ابرار حامد اردو شاعری کے ان معتبر ناموں میں شامل ہیں جن کے ہاں تخلیق ایک مسلسل فکری و روحانی سفر کی صورت میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ یہ کتاب دراصل دو شعری مجموعوں کے پہلے ایڈیشن پر مشتمل ایک جامع جلد ہے، جو آئندہ اشاعتوں میں اضافوں کے ساتھ الگ الگ شائع ہوں گے۔ موجودہ شکل میں یہ مجموعہ اپنی وسعت اور تنوع کے باعث خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔
شاعر کا فکری و ادبی تعلق اپنے عہد کے ممتاز اہلِ قلم سے رہا ہے۔ وہ اپنے استادِ محترم احمد فراز کی شاگردی کو اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھتے ہیں، اور بعد ازاں خالد احمد، نجیب احمد، اعجاز کنور راجہ اور عباس تابش جیسے نامور شعرا و ادبا کی صحبت نے ان کے شعری شعور کو جِلا بخشی۔ تاہم ابرار حامد کسی کا آہنگ اختیار کرنے کے قائل نہیں؛ وہ اپنے منفرد اسلوب اور جداگانہ رنگ میں شعر کہنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور یہی ان کی پہچان ہے۔
ان کا تخلیقی سفر صرف غزل تک محدود نہیں۔ ان کا اٹھارہواں مجموعہ کیاری فردیات پر مشتمل ہے، جو ان کی شعری جہات کی ایک نئی سمت کی نمائندگی کرتا ہے۔ فردیات کو بطور صنفِ سخن تسلیم کرانے میں عارف عبدالمتین کا کردار اہم رہا، مگر ابرار حامد نے اس صنف میں مقدار اور معیار دونوں اعتبار سے نمایاں کام کیا ہے۔ ان کے فرد اشعار میں زندگی کے تجربات ایک جامع مگر مختصر پیکر میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں۔
آج کے مادّی عہد میں جب شاعری کو محض تفریح یا وقتی تسکین تک محدود سمجھا جانے لگا ہے، ابرار حامد اسے اپنی زندگی کا حاصل اور مقصد قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک شعر کہنا ایک مسلسل ریاضت ہے—فکر کے عمیق سمندر میں اتر کر لفظوں کے جواہرات تلاش کرنا اور انہیں قاری کے سامنے خلوص کے ساتھ رکھ دینا۔
خواب کے بعد کا مطالعہ محض شاعری پڑھنا نہیں بلکہ ایک داخلی سفر پر روانہ ہونا ہے۔ یہ کتاب قاری کو شاعر کے باطن سے روشناس کراتے ہوئے اس کے اپنے وجود کی پرتیں بھی وا کرتی ہے۔ یوں یہ مجموعہ خواب کے بعد کی بیداری کا ایسا لمحہ بن جاتا ہے جہاں لفظ، احساس اور شعور ایک نئی ہم آہنگی میں ڈھل جاتے ہیں۔