کتاب کا نام : خطاؤں کی جسارت (شعری مجموعہ)
شاعر: عزیز عاصر
کتاب کا تعارف: سعیدخان
خطاؤں کی جسارت ممتاز شاعر عزیز عاصر کا پہلا شعری مجموعہ ہے، جو روایت شکن فکر، تخلیقی بغاوت اور زندگی کے اثبات کا اعلان ہے۔ یہ کتاب محض شاعری کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی سفر ہے، جس میں شاعر نے جامد اقدار، فرسودہ نیکیوں اور مروجہ سماجی رویّوں کو چیلنج کرتے ہوئے انسان کو خود آگاہی اور عمل کی دعوت دی ہے۔
عزیز عاصر روحانیت اور فلسفے کے آدمی ہیں، مگر ان کی روحانیت تقلیدی نہیں اور نہ ہی ان کا فلسفہ جامد ہے۔ وہ سائنس اور فلسفے کی طرح بدلتی ہوئی دنیا کے ساتھ چلنے اور اسے بہتر بنانے کے قائل ہیں۔ فلسفے کے سنجیدہ مطالعے نے ان کی شاعری کو گہرائی، فکری وسعت اور معنوی تہہ داری عطا کی ہے۔ ان کے ہاں خطا کو کمزوری نہیں بلکہ تخلیقی قوت سمجھا گیا ہے—ایسی قوت جو انسان کو نئے راستے تراشنے اور زندگی کو نئے زاویوں سے دیکھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔
یہ مجموعہ معاشرے کی گلی سڑی اور جامد نیکیوں کے مقابل نئی اور تخلیقی سوچ کو پیش کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک زندگی حرکت، جدوجہد اور ارتقاء کا نام ہے۔ وہ انسان کو مایوسی، جبر اور بے عملی سے نکال کر خود اعتمادی، مزاحمت اور تعمیرِ حیات کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ ان کی شاعری امن، بھائی چارے، انسانی احترام اور ترقی کی علمبردار ہے۔
عزیز عاصر نے اپنے نظریۂ شعر کو یوں بیان کیا ہے کہ انہوں نے “زندگی کا ہاتھ تھام کر شاعری کی ہے”۔ ان کے نزدیک انسان اپنی سوچ، فیصلوں اور اعمال کا مجموعہ ہے۔ اسی لیے وہ مثبت فکر، مسلسل جدوجہد اور خود انحصاری کا پیغام دیتے ہیں۔ ان کی نظمیں انسان کو سعی و عمل، مزاحمت اور نئے افق تلاش کرنے کی تحریک دیتی ہیں۔
فکری اعتبار سے ان کی شاعری میں علامہ اقبال کی بازگشت سنائی دیتی ہے، جب کہ فلسفیانہ حوالوں سے انہوں نے فریڈرک نطشے، جارج ولہلم فریڈرک ہیگل اور یوهان وولفگانگ فان گوئٹے کے افکار سے بھی استفادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں انسانی ارتقاء، خودی، حرکت اور حیاتِ نو کا تصور نمایاں دکھائی دیتا ہے۔
خطاؤں کی جسارت اُن لوگوں کے لیے خاص طور پر مشعلِ راہ ہے جو زندگی سے مایوس، حالات سے شکستہ یا معاشرتی جبر کا شکار ہیں۔ یہ کتاب قاری کو اپنی ذات میں جھانکنے، اپنی قوت کو پہچاننے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہو کر آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ شاعر خدا کو محض سمجھنے یا بیان کرنے کے بجائے “جینے” کا پیغام دیتا ہے اور خدا کے نام پر ہونے والے ظلم، جبر اور استحصال کی نفی کرتا ہے۔
یہ شعری مجموعہ فکری تعمیر اور ذہنی بیداری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اگر آپ زندگی میں حرکت، امید، جدوجہد اور ترقی کا پیغام تلاش کر رہے ہیں تو خطاؤں کی جسارت آپ کے لیے ایک فکر انگیز اور حوصلہ افزا مطالعہ ثابت ہوگی۔