آیتِ عشق شعری مجموعہ از علی حسین عابدی

کتاب: آیتِ عشق (شعری مجموعہ)
شاعر: علی حسین عابدی
کتاب کا تعارف: سعیدخان

آیتِ عشق دراصل ایک ایسے شاعر کی پہلی پیشکش ہے جو اظہار کو محض لفظی چابک دستی نہیں سمجھتا بلکہ اسے داخلی سچائی کی ترجمانی مانتا ہے۔ عنوان ہی اس جراتِ اظہار کا آئینہ دار ہے۔عشق کو محض جذبہ نہیں بلکہ ایک مقدس تجربہ، ایک روحانی کیفیت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ عشق سطحی معنی نہیں رکھتا بلکہ وہ کیفیت ہے جو انسان کو اپنے حصار میں لے کر اسے صبر، وقار اور تحمل کے ساتھ جینے کا ہنر سکھاتی ہے۔

جدید غزل کے ہنگامہ خیز عہد میں جہاں روایت اور جدت کے نام پر اکثر سطحی تجربات سامنے آتے ہیں، وہاں آیتِ عشق ایک سنجیدہ اور باوقار شعری آواز کے طور پر ابھرتی ہے۔ یہ مجموعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر لہجے میں تازگی ہو اور بنیادیں کلاسیکی شعری روایت میں پیوست ہوں تو غزل آج بھی پوری معنویت کے ساتھ زندہ رہ سکتی ہے۔

اس مجموعے میں عشق ایک مرکزی استعارہ ہے، مگر شاعر کا کینوس صرف اسی دائرے تک محدود نہیں۔ اس کی غزلوں میں فکر کی گہرائی، داخلی کرب کی تہذیب یافتہ ترجمانی، اور فنّی شعور کی پختگی نمایاں ہے۔ وہ جذبات کو اس انداز سے پیش کرتا ہے کہ نہ مبالغہ ہوتا ہے اور نہ ابہام۔ تشبیہیں اور استعارے دلکش بھی ہیں اور مانوس بھی، جو قاری کو ایک مربوط شعری فضا میں لے جاتے ہیں۔

علی حسین عابدی کا لہجہ متوازن ہے۔ وہ روایت سے جڑا ہوا ہے مگر اس کا بیان عصرِ حاضر کی حسیت سے ہم آہنگ ہے۔ یہی امتزاج اس کی شاعری کو انفرادیت عطا کرتا ہے۔ اس کے اشعار میں داخلی صداقت کا عنصر غالب ہے؛ وہ محض اشعار کی کثرت پر یقین نہیں رکھتا بلکہ ہر شعر کو ایک مکمل تجربے کی صورت ڈھالتا ہے۔

اس مجموعے کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کا فکری پس منظر ہے۔ شاعر کی وابستگی ایک باطنی اور نظریاتی شعور سے محسوس ہوتی ہے جو اس کے کلام کو محض رومانوی اظہار سے بلند کر کے ایک وسیع انسانی تناظر میں لے جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے اشعار اثر پذیری رکھتے ہیں اور براہِ راست دل میں اترتے ہیں۔

مختصر یہ کہ آیتِ عشق ایک ایسے نوجوان شاعر کا پہلا قدم ہے جو لفظ اور معنی دونوں پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کی شاعری میں جذبے کی شدت بھی ہے اور فکر کی سنجیدگی بھی۔ یہ مجموعہ نہ صرف جدید غزل کے قارئین کے لیے دلکشی رکھتا ہے بلکہ کلاسیکی ذوق رکھنے والوں کے لیے بھی ایک خوشگوار تجربہ ثابت ہوتا ہے۔

Leave a Comment