ڈھاکہ میں آؤں گا ناول از سہیل پرواز

ڈھاکہ میں آؤں گا پاک فضائیہ کے مشہور سابق پائلٹ اور مایہ ناز مصنف سہیل پرواز کا لکھا ہوا ایک شاہکار اردو ناول ہے. یہ محض ایک تاریخی ناول نہیں بلکہ محبت، وفاداری اور قومی شناخت کے پیچیدہ رشتوں کی ایک دل گداز داستان ہے۔ سہیل پرواز نے سقوطِ مشرقی پاکستان کے پس منظر کو سیاسی مناظرے کے بجائے انسانی احساسات کی روشنی میں پیش کیا ہے، جہاں کردار نظریات سے زیادہ اپنے ضمیر، رشتوں اور وطن سے وابستگی کے ذریعے پہچانے جاتے ہیں۔

ناول کا مرکزی خیال اس تصور کو رد کرتا ہے کہ حب الوطنی کسی خاص نسل، زبان یا خطے کی جاگیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی کہانی ان گمنام بنگالیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے جنہوں نے تاریخ کے کڑے امتحان میں اپنی وفاداری، قربانی اور استقامت سے ایک الگ مثال قائم کی۔ مصنف نے حقیقی حالات سے اخذ کردہ فضا، مستند مقامات اور جاندار منظرنگاری کے ذریعے واقعات کو ایسی تاثیر بخشی ہے کہ فکشن اور حقیقت کے درمیان حدِ فاصل مدھم محسوس ہونے لگتی ہے۔

Related Post

سہیل پرواز کی رواں نثر، مؤثر مکالمے اور کرداروں کی نفسیاتی تشکیل قاری کو ابتدا ہی سے اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ محبت، جدائی، قربانی اور امید کے رنگوں سے مزین یہ ناول نہ صرف سقوطِ ڈھاکہ کے ایک کم بیان کیے گئے پہلو کو سامنے لاتا ہے بلکہ یہ احساس بھی جگاتا ہے کہ تاریخ کا ہر باب صرف جنگوں سے نہیں، انسانوں کے دلوں میں محفوظ جذبوں سے بھی لکھا جاتا ہے۔