علاج بذریعہ غذا از حکیم احتشام الحق قریشی

کتاب: علاج بذریعہ غذا ازحکیم احتشام الحق قریشی

یہ کتاب “علاج بذریعہ غذا” از حکیم احتشام الحق قریشی دراصل طبِ قدیم کے اس بکھرے ہوئے علمی سرمائے کو یکجا کرنے کی ایک سنجیدہ اور باوقار کوشش ہے، جس میں غذا کے دوائی اثرات کو صدیوں کے تجربات کی روشنی میں نہایت سلیقے سے مرتب کر دیا گیا ہے۔ طب میں غذاؤں کا ذکر تو ہمیشہ سے موجود تھا، مگر وہ مختلف فنون کے صفحات میں منتشر تھا۔ مصنف نے ان منتشر دانوں کو ایک لڑی میں پرو کر ایسا خوشنما ہار بنا دیا ہے جو عام فہم بھی ہے اور علمی قدروں کا حامل بھی۔

کتاب کا مرکزی موضوع یہ ہے کہ غذا محض لذتِ دہن کا نام نہیں بلکہ ایک مؤثر، محفوظ اور فطری طریقۂ علاج بھی ہے۔ انسان بے شعوری میں بھی غذاؤں کے ذریعے صحت حاصل کرتا رہا ہے، مگر جب یہی علم شعوری صورت اختیار کر لے تو فائدہ دو چند ہو جاتا ہے۔ حکیم قریشی اسی شعوری استفادے کا راستہ کھولتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ غذا کا دائرہ علاج صرف معاون نہیں بلکہ بنیادی بھی ہے—کہیں غذا مکمل علاج کا کام دیتی ہے اور کہیں دوا کے ساتھ شریک ہو کر۔

مصنف نے غذاؤں کی دو اقسام”خالص غذا اور دوائیت آمیز غذا” کی حکیمانہ تقسیم پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ روزمرہ کے معمولی سمجھنے جانے والے اجزا اگر صحیح طریقے سے استعمال کیے جائیں تو مفاصل کے درد سے لے کر جگر، گردے، سانس اور مرگی جیسے مشکل امراض تک میں حیرت انگیز شفا کے امکانات رکھتے ہیں۔ جالینوس اور زکریا رازی جیسے اکابر اطبا کے تاریخی حوالوں سے غذا کے علمی و عملی مقام کو مزید استحکام ملتا ہے۔

کتاب کی امتیازی خصوصیت اس کی حروفِ تہجی کے اعتبار سے ترتیب ہے، جس میں ہر غذا کی شکل، مزاج، اثرات، طریقہ استعمال، مفید امراض، مضر اثرات اور ان کی اصلاح کا طریقہ نہایت اختصار مگر جامعیت کے ساتھ درج ہے۔ ساتھ ہی پانی اور برف جیسے سادہ مگر مؤثر عناصرِ علاج کی افادیت بھی قابلِ مطالعہ انداز میں شامل کی گئی ہے۔

یہ کتاب محض غذاؤں کی فہرست نہیں، بلکہ علم العلاج اور علم الادویہ کا حسین امتزاج ہے، ایک ایسا علمی ذخیرہ جو عوام کے لیے رہنمائی اور اطبا کے لیے تحقیق کا روشن راستہ فراہم کرتا ہے۔ صدیوں کے تجربات کی توثیق اور علمِ طب کی مستند روایت اس کتاب کو ایک معیاری، قابلِ اعتماد اور مفید ترین تالیف کا درجہ دیتی ہے۔

Leave a Comment