داستانِ راعیاں محمد شریف، صوبیدار میجر (ریٹائرڈ)، کی ایک تحقیقی و تاریخی تصنیف ہے، جس میں برصغیر کی آرائیں برادری (راعیں) کے نسب، تاریخی پس منظر اور دینی و معاشرتی کردار کو مستند تاریخی حوالوں کی روشنی میں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
کتاب کا مرکزی موضوع “عربی قبیلہ بنو سامہ” ہے، جس کی تین شاخوں، “ابراہہ سامہ، شیخ سامہ اور راعیں سامہ” کے تاریخی وجود اور برصغیر میں ان کے سفر و خدمات کو مصنف نے خاص طور پر موضوعِ بحث بنایا ہے۔
یہ کتاب ان بنیادی سوالات کا جواب تلاش کرتی ہے کہ عرب النسل “بنو سامہ” برصغیر میں کب اور کس راستے سے آئے، ان کے جدِ امجد کون تھے، سندھ اور پنجاب میں ان کی آبادکاری کیسے ہوئی اور وقت کے ساتھ راعیں سامہ کی شاخ نے موجودہ راعیں برادری کی صورت کیسے اختیار کی۔ مصنف نے محض روایتی حکایات، ناموں کی مشابہت یا قیاسی نظریات پر اکتفا کرنے کے بجائے قدیم تاریخی کتب، دستاویزات اور حوالہ جاتی مواد سے اپنی تحقیق کو مستند بنانے کی کوشش کی ہے۔
اس تصنیف کی ایک نمایاں خصوصیت مصنف کی طویل تحقیقی جستجو ہے۔ لندن کی معروف لائبریریوں میں کئی برس تک قدیم ریکارڈ اور تاریخی ماخذ کی ورق گردانی کے بعد بکھرے ہوئے مواد کو یکجا کیا گیا، تاکہ “بنو سامہ اور اس کی مختلف شاخوں، خصوصاً راعیں سامہ”، کی تاریخ کو زیادہ واضح انداز میں سامنے لایا جاسکے۔
“داستانِ راعیاں” محض کسی برادری کا نسب نامہ نہیں، بلکہ عربی النسل بنو سامہ کے برصغیر میں ورود، ان کے دینی و معاشرتی کردار اور راعیں برادری کے تاریخی تشخص کی تلاش کا ایک سنجیدہ سفر ہے۔ یہ کتاب نئی نسل کو اپنے ماضی سے آگاہ کرنے کے ساتھ ساتھ تاریخ، نسب اور تہذیبی شناخت کے ان پہلوؤں پر غور کی دعوت دیتی ہے جو صدیوں سے وقت کی گرد میں پوشیدہ چلے آرہے ہیں۔
