کتاب: اسلحه جنگ (ماضی، حال اور مستقبل کا)
مصنف: میجر جنرل محمد اکبر خان
اسلحۂ جنگ (ماضی، حال اور مستقبل کا) ایک ایسی منفرد تصنیف ہے جس میں عسکری تاریخ، جدید جنگی علوم اور سیرتِ طیبہ کے درخشاں پہلو ایک دوسرے سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں۔ میجر جنرل محمد اکبر خان نے اس کتاب میں اس حقیقت کو نمایاں کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے چودہ صدیوں قبل جنگ کو محض قوت و غلبے کا ذریعہ نہیں رہنے دیا بلکہ اسے نظم و ضبط، حکمت، منصوبہ بندی اور اخلاقی اصولوں پر استوار ایک باقاعدہ علم کی صورت عطا کی۔
مصنف نے عہدِ نبوی ﷺ کی جنگی حکمتِ عملی کا جائزہ لیتے ہوئے جدید عسکری نظریات اور اسلحۂ جنگ کی ارتقائی صورتوں پر بھی بصیرت افروز گفتگو کی ہے۔ کتاب یہ احساس بیدار کرتی ہے کہ امن کا تحفظ صرف خواہش سے نہیں بلکہ فہم، تیاری اور مؤثر دفاعی صلاحیت سے ممکن ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں جدید ہتھیاروں، ان کے استعمال اور اثرات کو نہایت سادہ مگر جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
علمی تحقیق، قومی شعور اور عشقِ رسول ﷺ کے امتزاج سے مرتب یہ کتاب اردو عسکری ادب میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ یہ نہ صرف فوجی حلقوں کے لیے مفید ہے بلکہ ہر اُس قاری کے لیے بھی اہم ہے جو سیرتِ نبوی ﷺ کے اس پہلو کو سمجھنا چاہتا ہے جس نے تاریخِ انسانیت میں جنگ اور امن، دونوں کے تصورات کو نئی جہت عطا کی۔
اُردو ادب میں اپنی نوعیت کی پہلی اور انوکھی کتاب ہے اور مسلمانوں کے مردہ دلوں میں خون زندگی دوڑانے کا ایک ذریعہ ۔ اس کتاب کے مطالعہ سے اسلامی زندگی کے صحیح خدو خال اُبھر نے لگتے ہیں۔ فوجی جوانوں کے علاوہ عام مسلمانوں کے لئے بھی اس کا مطالعہ از بس ضروری ہے ۔
