اسلام آباد سے کابل براستہ پشاور از عقیل یوسفزئی

اسلام آباد سے کابل براستہ پشاور معروف صحافی اور امورِ افغانستان کے ماہر تجزیہ نگار عقیل یوسفزئی کی ایسی اہم تصنیف ہے جو جنگ، دہشت گردی اور علاقائی سیاست کے پرآشوب عہد کو تاریخ کے زندہ اوراق کی صورت میں محفوظ کرتی ہے۔ یہ کتاب ان برسوں کی داستان بیان کرتی ہے جب افغانستان کی جنگ کے شعلے سرحدوں سے نکل کر پاکستان کے قبائلی علاقوں، خیبر پختونخوا اور پھر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے آئے۔ خوف، بے یقینی، نقل مکانی، عسکریت پسندی اور بدلتی ہوئی سیاسی بساط کے درمیان مصنف نے ایک ذمہ دار صحافی کی حیثیت سے واقعات کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ ان کے پس منظر اور نتائج کو بھی باریک بینی سے قلم بند کیا۔

اس تصنیف میں شامل رپورٹیں، مضامین اور کالم اپنے عہد کی محض روزمرہ صحافت نہیں بلکہ ایسے تاریخی شواہد ہیں جو ایک پیچیدہ دور کی فکری، سیاسی اور سماجی جہتوں کو سمجھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ طالبانائزیشن، انتہاپسندی، القاعدہ، پاک افغان تعلقات، دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں، قبائلی علاقوں کی بدلتی صورتِ حال اور عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملی جیسے موضوعات پر مصنف نے مشاہدے، تحقیق اور تجزیے کو اس انداز سے یکجا کیا ہے کہ قاری واقعات کے ظاہری رخ کے ساتھ ان کے پس پردہ عوامل سے بھی آگاہ ہوتا چلا جاتا ہے۔

Related Post

عقیل یوسفزئی کا اسلوب سنسنی سے اجتناب اور حقیقت نگاری سے وابستگی کا آئینہ دار ہے۔ یہی وصف اس کتاب کو محض ایک صحافتی مجموعے سے بلند کر کے عصرِ حاضر کی معتبر دستاویز بنا دیتا ہے۔ اسلام آباد سے کابل براستہ پشاور ان تلخ تجربات کی یادگار ہے جنہوں نے اس پورے خطے کی سیاست، معاشرت اور اجتماعی نفسیات پر گہرے نقوش ثبت کیے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ کتاب نہ صرف محققین، صحافیوں اور طلبہ بلکہ جنوبی ایشیا کی معاصر تاریخ اور امن و تنازعات کے موضوع سے دلچسپی رکھنے والے ہر سنجیدہ قاری کے لیے ایک قابلِ قدر ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔