آواز کی لہر پر چلا میں از صابر ظفر

کتاب: آواز کی لہر پر چلا میں
شاعر: صابر ظفر

آواز کی لہر پر چلا میں معروف شاعر صابر ظفر کا اکتالیسواں شعری مجموعہ ہے، جو اُن کی فکری پختگی اور شعری ریاضت کا نچوڑ محسوس ہوتا ہے۔ اس مجموعے میں شاعر کی داخلی کائنات اپنی تمام تر نزاکتوں، بے یقینیوں اور جذباتی پیچیدگیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔

صابر ظفر کی غزل میں فطرت سے ایک گہرا مگر غیر محسوس رشتہ قائم دکھائی دیتا ہے۔ یہ رشتہ کسی ظاہری وابستگی کا محتاج نہیں، بلکہ باطن کی سطح پر اپنا اظہار خود کر لیتا ہے۔ ان کے ہاں موت اور محبت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ لازم و ملزوم کی صورت سامنے آتے ہیں۔ زندگی کی ناپائیداری اور جذبوں کی شدت مل کر ایک ایسی فضا ترتیب دیتی ہے جہاں قاری اپنے وجود کی بازگشت سن سکتا ہے۔

اس مجموعے میں کربِ تنہائی ایک مستقل استعارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ تنہائی ہے جس سے فرار ممکن نہیں، بلکہ جسے قبول کر کے ہی ذات کی تفہیم ممکن ہوتی ہے۔ حاصل کی نزاکت، رشتوں کی لایعنیت، وابستگی کی بے یقینی اور ان سب کے بیچ خوشی کے مختصر مگر قیمتی لمحے، یہ سب عناصر شاعر کے ہاں نہایت کفایت شعاری کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔ وہ کم لفظوں میں زیادہ معنی سمو دینے کا ہنر رکھتے ہیں۔

صابر ظفر کا ایک شعر اس داخلی کرب اور وجودی احساس کی عمدہ مثال ہے:

Related Post

میں ایسے جمگھٹے میں کھو گیا ہوں
جہاں میرے سوا کوئی نہیں ہے

یہ شعر محض ایک کیفیت نہیں بلکہ عہدِ حاضر کے انسان کی اجتماعی تنہائی کا استعارہ ہے۔ شاعر بنتے ہوئے تصورات سے زیادہ محسوسات کو اہمیت دیتے ہیں، اور انہی محسوسات کو دو مصرعوں میں اس مہارت سے ڈھالتے ہیں کہ قاری دیر تک اس کے اثر میں رہتا ہے۔

آواز کی لہر پر چلا میں، دراصل ایک داخلی سفر ہے. ایسا سفر جس میں قاری شاعر کے ساتھ ساتھ اپنی ذات کے نہاں گوشوں تک پہنچتا ہے۔ یہ مجموعہ جدید حسیت، داخلی صداقت اور سادہ مگر بلیغ اظہار کا خوبصورت امتزاج ہے، جو اردو غزل کے سنجیدہ قاری کے لیے ایک قیمتی اضافہ ثابت ہوگا۔